قسط # 5
جدید دور، عدم برداشت کا مرض اور قوامیت کی روح
متعدی مرض کے جیسے اکثر خواتین میں عدم برداشت بڑھتا نظر آرہا ہے جبکہ حضرات میں قوامیت کی اصل روح خال خال دکھائی دیتی ہے۔
بعض خواتین کو قریب سے جان کر یوں لگتا ہے جیسے شیطان نے چھو کر باؤلہ کر دیا ہو ،اللہ جانے یہ کسی خوراک یا دوا سے ان میں منتقل ہونے والے ہارمونز ہیں یا کیمیکل کی کمی زیادتی یا پھر ضرورت سے زیادہ فیمینیزم کی ڈوز کے اثرات ،پھر شکوہ ہوتا ہے طلاق کی شرح بڑھ گئ ہے ،سنگل موم کے لئے مدد درکار ہے حالانکہ ہر سنگل موم قابل رحم نہیں ہوتی بلکہ دوسری جانب بیچارہ شوہر اس کے تلخ مزاج کو جھیلتے ہوئے تھک چکا ہوتا ہے ۔
ایسا لگتا ہے کہ پہلے اس حدیث کی حقیقت آشکار نہ ہوئ تھی کہ دنیا میں نیک سیرت بیوی سب سے بڑی نعمت ہے ۔دیکھ لیں کہ دنیا بھر میں کتنے ہی بڑے عہدوں پر اہم ذمہ داریوں پر لوگ تعینات ہوں لیکن انہیں گھروں میں سکھ دینے اور پانے کی ٹریننگ اس لئے دی جانے لگی ہے تاکہ یہ اپنے اپنے شعبوں میں ترقی کا باعث بن سکیں۔
تعلیم یافتہ بمقابلہ تہذیب یافتہ: عوامی مقامات پر بدسلوکی
کہنے کو نئ نسل کی لڑکیاں پڑھی لکھی ہوتی ہیں لیکن کیا فائدہ ایسی تعلیم یافتہ ہونے کا جو انسان کو تہذیب یافتہ نہ بنا سکے۔ ستر تو کیا سو دو سوگمان بھی دے دیئے جائیں کہ یہ وجہ ہوتی ہے انسان چڑچڑا ہو جاتا ہے لیکن عوامی جگہوں پر ان کی اپنے اپنے شوہروں سے بدسلوکیاں دیکھ کر یہ خیال ضرور آتا ہے کہ پھر گھروں میں یہ کیا حشر برپا کرتی ہوں گی،ان کے شوہر اور سسرال والے بیچارے آئے روز کیسے خوف اور صدمات سے گزرتے ہوں گے ؟
یہ بھی عجیب ہے کہ بڑے پیمانے پر یہ تاثر ہمارے ہاں میڈیا اور سوشل میڈیا کے توسط سے پھیلتا چلا گیا ہے کہ “سسرال” کا مطلب ہی ظلم کی چکی ہے،جیسا کہ نند بھاوج دیورانی جیٹھانی ،ساس بہو میں کہیں پیار ،عزت ،مروت ہی نہ ہو،شوہر بیوی کا نکاح جنگ عظیم کے قیام کا مقصد بن چکا ہو ان رشتوں میں سکون ایسا عنقا ہوگیا ہو کہ گویا کوہ قاف کے قصے ہوں اور تو اور بعض خواتین بھی ان پھیلی جھاڑیوں میں کالر جھاڑ جھاڑ کر بتاتی ہیں کہ میں تو جناب بہت ہی اچھی بہو،چچی تائی مامی نند بھاوج بیگم ، بہو اور ماں ہوں ارے بہن یہ آپ کا ذمہ ہے نا ایسا ہونا شرط بھی تھا اسی میں دونوں جہانوں کی بچت بھی یہ کوئ ایکسٹرا آرڈنری کام نہیں کر ڈالا ہے آپ نے، اچھا مسلمان اور کیا ہوتا ہے بھلا ؟!اللہ تعالیٰ کواترانے والے شیخی خورے اور اپنے آپ کو بہت پاک ظاہر کرنے والے بھی تو پسند نہیں ہیں نا آپ اچھے ہیں تو اپنی عاقبت اچھی کرنے کے لئے اچھے ہیں۔
روزمرہ مشاہدات: بازاروں اور سٹورز کا احوال
اور یہ تکرار و بحث کی بات پاکستانی مسلمان جوڑوں کی ہو رہی ہے کہیں پارکنگ لاٹ میں بھنبھناتی بیگم پیر پٹختی جاتی دکھائی دےرہی ہوتی ہے اور شوہر پیچھے پیچھے مدہم آواز میں پوچھتے کہ اللہ کی بندی وجہ تو بتاؤ،آگے وجہ تو کیا بتانی شرطیں گنوانی ہوتی ہیں،کہیں گوشت کے کارنر پر ڈپٹتی اور وہاں سے فرار ہوتی بیگم کہ جو دل کرے لے لو ہر کام میں ہی کروں کچھ خود بھی کر لو۔۔۔۔میاں کی منمناتی آواز کہ اللہ کی بندی میں کب تک انڈے والا سینڈوچ کھاؤں کچھ ایسا لے لو جس سے لنچ اچھا بن سکے ۔ جوابی فائرنگ ۔۔اور گوشت بیچنے والے خریدنے والے انجان بننے کی بھرپور ایکٹنگ کرتے ہوئے ۔
گروسری پر میاں بیوی کی جنگ کہ بچے اور کارٹ پر نظر رکھو میں سبزی لیتے ڈسٹرب ہو رہی ہوں ۔۔۔۔بڑے سٹور پر بیگم نے دور کھڑے میاں کو ویسے ڈانٹا جیسے وہ ان کا جدی پشتی ملازم ہو بلکہ غلام ہو،لاچارگی سے شور میں سننے میں دیر کی تو ہاتھ میں موجود پکڑی چیز کھینچ کر دے ماری ۔ تھی تو تعلیم یافتہ ہی کسی اچھے دفتر سے اچھے لوگوں کے ساتھ میٹنگ نمٹا کر آئ ہوگی لیکن تہذیب یافتہ نہیں بن سکی تھی ،اب ایک لمحے کے کسی منظر کے پیچھے تو نہیں معلوم کہ وجہ کوئ ذہنی جسمانی مرض رہا ہو یا میاں کی کوئ حرکت لیکن جنہیں قریب سے دیکھنے اور جاننے کا اتفاق ہوا ان میں عموماً یہ مرد بہت ہی کوئ ممتا کے مارے باپ ہی ہوتے ہیں جو صرف اپنی اولاد کی خاطر ایسی سرکش عورتوں کو جھیل رہے ہوتے ہیں کہ بچوں سے ان کی ماں جدا نہ ہو جائے۔لیکن کب تک ؟ اور یہ سوال بھی ہے کہ کیا بچوں کے لیے والدہ کا یہ رویہ کہ شروع میں باپ کے گھر والوں سے مار دھاڑ بدزبانی کرتے دیکھیں پھر ان کی کھال ادھڑی روح کو مزید زخمی کیا جائے۔
نفسیاتی مسائل اور کپل تھراپی کی ضرورت
یہاں نادان شوہروں سے ایک بڑی بھول یہ ہوتی ہے کہ جلد از جلد ان خواتین کا کسی ماہر نفسیات سے رابطہ نہیں کرواتے،کیا خبر انہیں دوا یا ٹریٹمنٹ کی سخت ضرورت ہو ،کسی افسوسناک واقع کے اثرات یا نادانی اور ہے لیکن بے صبری اور ناشکری کے باعث شوہر سے یہ رویہ ٹھیک نہ ہو رہا ہو تو کسی اچھے مسلمان تھراپسٹ سے کپل تھراپی کی ضرورت ہے جس سے بہت سی زندگیوں میں بیک وقت سدھار آسکتا ہے۔
لیکن مشاہدہ یہ ہے کہ حضرات تو محض مزید بچوں کی دنیا میں آمد سے ہی ہر مسئلہ حل ہو جائے گا سمجھنے کی بھول کرتے چلے جاتے ہیں ،حالانکہ ایسی خواتین کے لئے یہ مزید بگاڑ کا باعث بن سکتا ہے جسمانی ذہنی صحت کے لحاظ سے بھی اور اگر نفسانی معاملات ہوں تو یہ بچوں کو ڈھال کی طرح استعمال کرتی ہیں ۔
رشتوں کی کرائسز مینجمنٹ اور میاں بیوی کی تربیت
ہمارے ہاں لڑکوں کی شادی کسی بھی عمر میں ہو اس میں نباہ کرنا،بیگم کو اطراف کے افراد کے شر سے بچانے کے ساتھ خود اس کے اپنے شر سے بھی بچانے کی کوئ تربیت نہیں کی جاتی بزنس میں کرائسیز مینجمنٹ سیکھ لیتے ہیں رشتوں کے کرائسیز کو مینیج کرنے کی نہ ہی سیکھ دی جاتی ہے نہ اس بات کو اہمیت۔
لڑکے شریف النفس اور نرم مزاج ہیں تو دبتے ہی چلے جائیں گے اس رویے سے تو ایک بلی بھی شیر نہیں ڈائنوسار بن جائے گی اور شوہر نامدار مجنوں بن سکتے ہیں یا دیوداس اس دن کے لئے تو والدین پال پوس کر بڑا نہیں کرتے نا کہ ان کا بیٹا دین، دنیا اور آخرت خراب کر بیٹھے۔ اور وہ حضرات جن میں جذبات کے نام پر فقط ایک چیز غصّہ بھرا ہوا ہو وہ ہر معاملے کو غصّےضد ہٹ دھرمی ہاتھا پائی سے “سلجھانے” کی کوشش کرتےہیں۔
خدارا شادی سے قبل اور بعد میں بھی وقت نکال کر اس رشتے کو نبھانے کا ہنر مستند ورچول اساتذہ سے یا قریبی معتبر افراد سے سیکھیں،عین ممکن ہے آپ کو کاؤنسیلنگ کی ضرورت ہو کبھی اس پہلو سے بھی کام کر لیجئے،اگر شادی کی گاڑی میں میاں بیوی دو پہیے ہیں تو رزق حلال،نگاہوں اور سماعتوں کی حفاظت اور معاملات و عبادات کو درست رکھنا ڈرائیور کی ذمہ داری۔ اور قرآن و سنت کی پیروی کرنا تو ان پہیوں کے نٹ بولٹ ہیں ۔ حکمت و مروت ان پہیوں کے رم ہیں۔ رب کا تقوی ان پہیوں میں موجود ہوا کی طرح مناسب ترین مقدار میں لازم ہے ۔
نکاح کو آسان بنانے کے زمرے میں یہ سب بھی شامل کرنا ضروری ہے،رب العزت سے دعا کیا کیجئے کہ آپ اور آپ کی نسلیں عمدہ مثال بنیں، عبرت نہیں ۔
فرح رضوان۔
اس مضمون کی اگلی قسط پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں