farahrizwan

قسط اول

کارآمد اور بااخلاق بڑھاپے کی تیاری

انسان کی پیدائش سے لے کر اسکے عمدہ کریئر اور شادی کے لیے سب ہی کام درست اور بروقت ، صرف اسی صورت میں ہو پاتے ہیں جب ان کاموں کا صحت مند ننھا سا بیج کئی سال پہلے بویا اور ذمہ داری سے سینچا جاتا رہا ہو – عموما ہم زندگی بھر بیشمار سنگ میل طے کرتے سفر جاری رکھتے ہیں حتی کہ بڑھاپے کے آثار دیکھ کر،اپنے تئیں قبر کی تیاری تک بھی کرنے کی کوشش کر لیتے ہیں لیکن ! نہیں کرتے تو بس ایک انتہائی اہم کام جو ہے؛ کارآمد اور با اخلاق بڑھاپے کی تیاری –

ویسے تو موت کے لیے کسی خاص عمر کی قید نہیں لیکن عام مشاہدہ یہی ہے کہ زیادہ تر لوگ بڑھاپے کے بعد ہی وفات پاتے ہیں تو دانش مندی یہ ہرگز بھی نہیں کہ ذرا ذرا سی تکلیف پر عین عالم شباب میں ہی پیرانه سالی اور موت کی تمنا کا اعلان شروع کر دیا جاۓ بلکہ یہ ہے کہ جوانی کی سرحد عبور کرنے سے قبل ایسے اقدامات اٹھا لیے جائیں کہ بڑھاپا اپنے لیے اور اپنوں کے لیے مشقت نہ بنے بلکہ شفقت کا نمونہ بن سکے –

موت، عمر رسیدگی اور ایک نبویؐ رہنمائی

ایک حدیث کا مفھوم پیش خدمت ہے کہ کبھی کسی کی موت کی اطلاع پر رسول الله صل اللہ علیہ وسلم اس طرح پوچھ کر بھی متوجہ کیا کرتے کہ گزر جانے والا شخص کیسا تھا؟ راحت پانے والا یا راحت دینے والا ؟ یعنی مرنے والا کیا ایسا بد بخت تھا کہ اپنے دنیا سے رخصت ہو نے پر ہی گھر والوں کو راحت دے سکا ؟ یا مرنے والا اپنے پیارے اخلاق کے سبب قبر میں راحت پانے والوں میں سے ہوگا؟

ویسے تو موت پیدائش کے لمحے کے بعد کبھی بھی آسکتی ہے ،لیکن اسی حدیث سے یہ تحریک ملتی ہے کہ کارآمد اور با اخلاق بڑھاپے کی تیاری ضرور،بالضرور کی جاۓ تاکہ بزرگی کا ویٹو پاور پالینے کے باوجود بھی اس کے منفی استعمال سے بچ کر اللہ کے فضل سے راحت پانے والوں میں شامل ہو سکیں۔

معاشرتی رویے اور عمر رسیدہ افراد کی تلخی

بڑھاپے کی عمر کو پہنچے ضدی ، شاکی،غصے اور غضب سے بھرے ،تنک مزاج ،اکھڑ افراد کا تلخ تجربہ یا مشاہدہ ہم اکثر اپنے ارد گرد بھی کرتے ہی رہتے ہیں ۔ بیمار ی اور ناتوانی سے نبردآزما بعض ایسے عمر رسیدہ خواتین و حضرات کی بھی کمی نہیں جو اپنی ہی خدمت پر معمور اہل خانہ ،ڈاکٹرز ،نرسوں ، ہیلپرز ،یا اٹنیڈنٹ پر چیختے دھاڑ تے ،انہیں جھڑکتے اور کبھی کبھی تو تکلیف کی شدت میں گالم گلوچ تک کر گزرتے ،چیزیں پھینکتے، مارتے پیٹتے ، یا کبھی اپنے آپ کو ہی اذیت دیتے پاۓ جاتے ہیں –

جائنٹ فیملی سسٹم اور فرائض کی منتقلی کا المیہ

اس نوعیت کے بوڑھے افراد کی طویل بیماری اور انکی شدید ،بد اخلاقی سے پورے گھر کا ماحول مکدر ہو کر رہ جاتا ہے .جائنٹ فیملی سسٹم ہو یا پھر ایسی کسی بھی عادت کے ساتھ کوئی بزرگوار کسی ایک اولاد کے ساتھ، تب بھی اس تکلیف دہ ماحول سے پیدا ہونے والی صورتحال کے سبب فیملیز کے درمیان رںجشیں اور کدورتیں جنم لینا شروع ہو جاتی ہیں،جن کا کبھی زبان سے اظہار کردیا جاتا ہے اور کبھی اس بات کو مد نظر رکھ کر کہ والدین کو اف بھی نہیں کہنا ، زبانی اظہار سے توانسان خود کو روک لیتا ہے لیکن یہ ضبط کبھی کبھی ان سبھی کے رویوں میں سختی کا موجب بنتا ہے ،خاص کر اس وقت ،جبکہ ہمارے کلچر میں رائج وہ سسٹم کام کر رہا ہو کہ بیٹی سسرال کی ذمہ داری کے سبب اور بیٹے روزگار کے سبب والدین کی دیکھ بھال نہ کریں لیکن بہو بہر صورت ان کی نگہداشت کا “فرض “ ادا کرتی رہے-

کیا ہم فرض نماز کو نفل کہہ کر ٹال سکتے ہیں ؟ یا اپنی فرض نماز کسی اور سے پڑھوا سکتے ہیں ؟ایک مسلمان تو کسی اور کے وضو کے پانی تک کو بلا اجازت ،دھونس دھمکی سے زبردستی استعمال نہیں کرسکتا ،ہم ایک پورا انسان جس کا نام ہوتا ہے شریف بہو اسے دھونس جماکر نہ صرف استعمال کرتے ہیں ،بلکہ اپنے اپنے فرائض اس کے سر ڈال کر ایک ان کہی شرط لاگو کر دیتے ہیں کہ ہر طرح کی رعایت ،عزت اور عافیت وہ تبھی پا سکتی ہے جب بلا چوں چرا “اچھی بہو “بن کر سب کے فرائض کی ادائیگی اپنے سر پر رکھ لے اور ان میں ذرا بھر کمی کوتاہی پر جوابدہ بھی ہو – آپ کی نظر سے بھی وہ اشتہار گزرے ہونگے کہ اس نمبر پر رابطه کر کے اپنی قضا نمازیں سستے نرخ پر ہم سے پڑھوا لیں؛اور ہنسے بھی ہونگے ،لیکن یہ رونے کا مقام ہے کہ ہر دوسرے گھر میں کم و بیش اسی سے ملتا جلتا کام بہووں پر اپنے فرائض منتقل کرنے کی شکل میں ہو رہا ہوتا ہے –

اصل حل: خدمت، ایثار اور حقیقی شکر گزاری

قربانی اپنی نیند ،اپنے آرام کی اور اپنی تفریح کا ایثار کر کے والدین کی خدمت خود کریں ،یا مال خرچ کر کے بہو کے لیے مددگار فراہم کریں یا ان میں سے کچھ بھی ممکن نہیں تو پھر اس انسان کی دل سےاور اپنے رویوں سے اور زبان سے قدر کریں کیونکہ اللہ تعالیٰ بھی اپنا شکر قبول نہیں فرماتا جب تک کہ اسکے بندوں کا شکریہ ادا نہ کر دیا جاۓ اور شکریہ صرف ہونٹوں یا زبان کی جنبش سے ادا نہیں ہوا کرتا،جیسے کہ نماز خاموش لبوں سے ادا نہیں ہوا کرتی حالانکہ اللہ تعالیٰ تو سینوں کے بھید تک جانتا ہے –

ساس سسر کی خدمت: خالص اللہ کی رضا کے لیے

یہاں بہو اور داماد دونوں ہی کو یہ بات کھلے دل سے سمجھنی چاہیے کہ ساس سسر اللہ کے نام کے ساتھ آپ کے تاحیات محرم بن چکے ہیں ،یعنی یہ وہ والدین اللہ تعالیٰ نے عطا کیۓ ہیں کہ اس عمر میں جب آپ کو شعور آ چکا ہے آپ جس طرح جاب یا کاروبار میں ذہانت اور محنت سے عروج پاسکتے ہیں اسی طرح ان کی مناسب دیکھ بھال اور اچھے برتاؤ کی ذرا سی محنت سے ہمیشہ کی جنت کما سکتے ہیں – اس کے لئے سب سے پہلے اپنی نیت کو درست کیجۓ جیسے ہم نئی جگہ قبله تلاش کرتے ہیں یا پرانی جگہ پر بھی صرف اللہ کے گھر کی سمت پر اپنا چہرہ کرکے نماز پڑھتے ہیں -اسی طرح ساس سسر کی خدمت یا سسرال میں کوئی بھی خیر کا کام یا ایثار کرتے ہوئے یاد رکھیں کہ یہ صرف اللہ کے چہرے کی خاطر کیا جاۓ -جیسے صدقه خواہ دکھا کر دیں یا چھپا کر لیکن ہو صرف اللہ کی رضا پانے ،اور کیا کبھی بھی کسی کو صدقه دے کر بدله مانگا جاسکتا ہے ؟ احسان جتایا جاسکتا ہے ؟ ایذا دیا جاسکتا ہے ؟ نہیں نا یہ تو نیکی برباد گناہ لازم کرنے والا کام ہو جاۓ گا –

ہمارے کلچر میں داماد کا رویہ اور اسلامی تعلیمات

ایک عجیب بات ہمارے کلچر میں رچی بسی ہے کہ بہو تو سسرال میں ایکسٹرا مائل آگے والا رویہ رکھے جبکہ داماد اپنے سسرال سے خود بھی میلوں دور رہے بیگم اور بچوں کو بھی دور رکھے اور کچھ ایسا رویہ بھی رکھے کہ سسرال والے بھی میلوں دوری پر ہی خیر منائیں ؟ کیا یہ مسلمان داماد ہیں ؟ کیا عباد الرحمن میں سے ہیں ؟ تو پھر کس مذھب کو فالو کرنے والے ہیں ؟ دین اسلام نے تو یہ درس بھی نہیں دیا اور وہ بھی نہیں دیا کہ کوئی مرد اپنے سسرال میں انسانیت کے اصولوں کے مطابق اخلاق سے پیش آئے تو اسکا مذاق اڑا کر برے نام رکھ کر باز رکھنے کی کوشش کی جاۓ -سراسر شیاطین کا پھیلایا ہوا فسق ہے –

مشترکہ خاندانی ذمہ داری اور عافیت کی تدابی

البتہ آپ کے سپاؤس اپنے والدین کی تنہا اولاد نہیں تو پھر سب کو کسی بھی طور پر انکی خدمت پر آمادہ کرتے رہنا چاہیے کہ اگر کوئی اولاد اسی شہر میں ہے تو وہ ہر ہفتے دو تین دن کا پرہیز کا کھانا بنا کر بھیج دے ،کوئی دور ہے تو مالی تعاون سے علاج یا ہیلپر کا بند وبست کرے -اور یاد رکھیں کہ تواصوا بالحق کے بعد تواصوا بالصبر آتا ہے کہ ری ایکشنز آئیں گے ،حکمت سے جھیل کر پھر آواز اٹھائیں ؛البتہ آپ قریب ہیں تو بزرگوں کی ذہنی روحانی جسمانی صحت کو دیکھتے ہوئے ان کے لیے کسی مشغلے یا سماجی تعلقات کی راہ ہموار کرنا نہ بھولیں- حالات بہت سخت ہوں تلخ ہوں تو بے بس افراد سے غیبت کر کے نیکیاں اور بے حس افراد سے چیخ چلا کر بات کرکے توانائیاں برباد کرنے سے کہیں بہتر ہے کہ صلواۃ الیل یا تہجد یا چاشت جب بھی موقع ملے نوافل میں کثرت سے دعائیں کرتے رہیں اس یقین کے ساتھ کہ ان شا اللہ عافیت کے معاملات ہونگے –

فرح رضوان ۔

اس مضمون کی اگلی قسط پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں

دوسری قسط