farahrizwan

قسط # 2

ادھیڑ عمر کا پڑاؤ اور زندگی کا بہترین وقت

زندگی کے سفر میں چلتے چلتے بڑھاپے سے بہت پہلے ادھیڑ عمر کا پڑاؤ آتا ہے- یہ عموما زندگی کا بہترین وقت ہوتا ہے ،ابھی طاقت قوت بھی بحال ہوتی ہے،عقل بیدار ہو چکی ہوتی ہے ،زیادہ تر کے بچے بڑے ہوچکے ہوتے ہیں،خواتین کے اپنے سسرال میں اور مردوں کے اپنے بزنس وغیرہ میں قدم جم چکے ہوتے ہیں تو نوجوانی جیسا افراتفری کا ماحول نہیں رہتا،(الا ما شا اللہ)-

مسلمان کے لیۓ ایک اصول ہے کہ وہ راہبانہ زندگی نہیں گزار سکتا ،لوگوں کے بیچ میں رہ کر انہیں سہہ کر انہیں نفع دے کر آگے بڑھتے رہنا اللہ کی نگاہ میں اس کا شرف بڑھانے والے کاموں میں سے ہے،زندگی کے اس سفر کو ہم پہاڑ پر چڑھنے سے تعبیر کر سکتے ہیں،جہاں دشوار گزار رستے پر پھسلن بھی ہو،خاردار جھاڑیاں ،دھول کنکر پتھر بھی ،مگر ایک کوہ پیما کی سی لگن دل میں لیے انسان آگے آگے بڑھتا چلا جا رہا ہو-

کوہ پیمائی کی لگن: دنیاوی شہرت بمقابلہ رضائے الٰہی

کسی بھی پہاڑ کی اونچائی تک کئی مراحل اور درجے ہوتے ہیں-جیسے کہ پہاڑ کا دامن ،سکرٹ شولڈر اور چوٹی -تو زندگی میں انتھک محنت کےساتھ ادھیڑ عمر تک بخیریت پہنچ جانا بھی فقط پہاڑ کے بیس کیمپ تک پہنچنے کے برابر ہی تصور کیا جاسکتا ہے -بلندی کو چھونے کا اصل سفر تو اس سے آگے شروع ہونے والا ہے،جہاں آکسیجن تک کے کم ہونے کا اندیشه ہولیکن بات یہ ہے کہ کسی بھی مذہب سے تعلق رکھنے والا کوہ پیما ہو اسکی لگن ہر خوف کا مقابلہ کرنے پر حاوی رہتی ہے،دنیا میں اپنا اور اپنے ملک کا نام بلند کرنے کا جذبہ اسے آگے بڑھنے پر اکساتا ہے اور جب وہ پہاڑ کی چوٹی پر پہنچ جاۓ تب کیا ہوتا ہے ؟اس قدر خطرات سے نمٹ کر جب وہ منزل مقصود پر پہنچتا ہے وہ اس جگہ مکان نہیں بنا سکتا ،رہائش اختیار نہیں کر سکتا ،کچھ پل سے زائد ٹہر نہیں سکتا،آس پاس کسی سے تعلقات استوار نہیں کرسکتا کسی کو نفع نہیں پہنچا سکتا ،فقط چند دن خبروں میں رہتا ہے ،کچھ انعامات وصول کرتا ہے پھر یہ چیپٹر دنیا میں بھی ختم ہو جاتا ہے،اور آخرت میں اس کا کوئی فائدہ نہیں ہونا –

لیکن مسلمان کا معاملہ اسکے بالکل برعکس ہے – وہ زندگی میں صلہ رحمی کے پہاڑ سر کرنے کے سارے جوکھم اپنے رب کی خوشی اور دائمی انعامات کی خاطر اٹھاتا ہے ،اس کی لگن لوگوں میں ناموری نہیں بلکہ رب کے حضور اچھے نام سے پکارا جانا ہوتا ہے،اسے اپنے نام اور خاندان کے نام کے جھنڈے نہیں بلند کرنے ہوتے بلکہ اس کا مقصد صرف اللہ کا نام بلند کرنا ہوتا ہے یہی اسکی جیت ہوتی ہے یہی اس کا ہدف –

ازدواجی معاملات اور مودّت کا آکسیجن سلنڈر

تو زندگی کے بیس کیمپ میں پہنچے تک اگر آپ کی اب تک کی زندگی میں اپنے سپاؤس سے گلے شکوے رہے ہیں تو جان لیں کہ اب وہ وقت ہے کہ کہہ سن کر پچھلے معاملات کا وزن ہلکا کر لیا جاۓ کیونکہ آگے صرف مودت کے آکسیجن سلنڈر سے پہاڑ سر کیا جاسکتا ہے،لہٰذا شعوری طور پر سمجھنے کی ضرورت ہے کہ شیطان تو ہمیشہ سے ہی شوہر اور بیوی کے درمیان جدائی ڈالنے کی کوشش میں لگا ہوا ہوتا ہے جبکہ ہزار اختلافات کے باوجود محبت و مؤدت سے گندھے نکاح کے پاکیزہ رشتے میں محبت بازی جیت ہی جایا کرتی ہے اور اکثر یہی صلح کا باعث بنتی ہے؛لیکن انسانی دل میں اس محبت کے جذبات و خواہشات ایک عمر تک جس طرح پیدا نہیں ہوتے ہیں اسی طرح ایک عمر گزرنے کے بعد نہایت قلت کا شکار بھی ہو جاتے ہیں،اگر تب بھی جھگڑے ہوتے رہیں ،اور وقت گزرنے پر ان جھگڑوں میں بچے بھی والدین کے مابین ثالث ،وکیل ،یا پارٹی کے طور پر شامل ہونا شروع ہو جائیں تو بات دو طرح سے بگڑ سکتی ہے ،پہلی یہ کہ نوعمر بچے میچیور نہیں ہوتے اس لیے مستقبل میں اپنی شادی کے نام سے ان کے نادان ذہن میں سخت گرہ پڑ جاتی ہے -دوسرا یہ کہ بچے شدید جذباتی ہوتے ہیں،وہ جسے بھی کمزور سمجھ لیں نو جوانی میں اپنے زور بازو کی بنا پر اسے علیحدگی پر اکساتے بھی ہیں اور عمل درآمد میں دیر بھی نہیں لگاتے؛یاد رکھیں کہ یہ آپ کی اولادیں تو ہوتی ہیں لیکن شیاطین انہیں بہت آسانی سے اپنے مہرے کے طور پر استعمال کرسکتے ہیں-

نادان بچے اور خاندانی اختلافات کی آگ

کسی گھر میں اگر احتیاط کی خاطر آگ بجھانے کا سپرے رکھا ہوا ہو ،تو عقل والے ساتھ ہی دعا بھی کرتے رہیں گے کہ الہی اسے استعمال کرنے کی نوبت کبھی بھی نہ آئے، لیکن نادان بچے کی خواہش ہوگی کہ کبھی تو گھر میں آگ لگے اور ہم اس فائر اسٹنگویشر کو استعمال کر سکیں،تو کیا خبر کسی کے گھر کو آگ لگ جاۓ گھر کے چراغ سے! اکثر ہی گھروں کی بات اتنی خراب نہیں ہوتی جتنی بڑھا لی جاتی ہے کہ علیحدگی تک معاملہ پہنچ جاۓ،اور ہر بار ہر کسی کے لیے طلاق مناسب حل ہوتی بھی نہیں،اس لیے کسی بھی زیادتی پر مبنی فیصلے کے بعد اسی رب کی جانب سےجس کے نام سے اتنا عظیم رشته کسی وقت جوڑا گیا تھا ان سب کو وبال جھیلنا پڑتا ہے جو اس خرابی میں کسی نہ کسی طور شامل رہے –

غصے پر قابو: نبویؐ تدابیر اور ہارمونل تبدیلیاں

ایک حدیث ہمیشہ یاد رکھنی چاہیے کہ شیطان ،غصے کے وقت جسم میں خون کی مانند گردش کرتا ہے ،لیکن ہمارے ہاں اکثر افراد کا تکیہ کلام یہ ہے کہ مجھے غصہ بہت آتا ہے – ایک اصول طے کر لیجیۓ کہ غصه اگرکسی فرد کی دین میں نافرمانی پر بھی آرہا ہو تب بھی آپ فوری رد عمل نہ دے کر حکمت و تحمل سے بات کریں گے تاکہ اگلے کی انا اور ضد کا مسئلہ نہ بنے اور پھر وہ جو بھی نیکی کرے آپ کو اجر ملتا رہے ،نہ کہ آپ کی وجہ سے دین سے ہی متنفر ہو جاۓ –

تو پھر اسی حل پر عمل کیجۓ جو حدیث میں موجود ہے ،پہلو بدل لیں نشست بدل لیں ،پانی پی لیں وضو کر لیں-اب دیکھیں بڑھتی عمر کے ساتھ بدمزاجی سے ان شا اللہ کیسے نجات ملتی ہے ،بات کی گتھی کو سلجھا لیں تو کام آسان ہو جاۓ گا -غور طلب بات ہے کہ نو عمری سے لے کر خواتین کی تو تمام عمر ہی کسی نہ کسی ہارمونل تبدیلی سے گزر رہی ہوتی ہے،ان ہی تغیرات کے سبب ان کا قلب تو بار بار ہی فواد میں تبدیل ہوتا رہتا ہے ،اور عربی میں فواد یعنی ہر قسم کے جذبات سے مغلوب و بھرپور دل،اسی سے تو سوال پوچھا جاۓ گا کہ اس وقت کیا عمل کیا ؟کیسا ردعمل دیا ؟ –

عمرِ رفتہ کا سفر اور جسمانی نعمتوں کی واپسی

اب رہے حضرات گرامی تو عمر رفتہ ان کے لیے بھی اپنے ساتھ وہ تھیلا لے کر آتی ہے جو کسی بھی ہوائی سفر کے اختتام پر جہاز کا عملہ لے کر آتا ہے کہ آپ کو فلاں فلاں سہولیات اس سفر کے لیے عنایت کی گئیں تھی جنھیں لوٹانے کا وقت آگیا ہے ،یہ ایک طے شدہ بات ہوتی ہے نا تو اس پر کون لڑتا جھگڑتا یا گھبراتا ہے ؟

بالکل اسی طرح توانائی بینائی سماعت بال حال حلیہ صحت عمر رفتہ میں منزل بہ منزل رفتہ رفتہ لوٹتے چلے جاتے ہیں جبکہ اولادوں میں طاقت اور خودسری بڑھنی شروع ہو جاتی ہے- مگر وسعت قلبی کے ساتھ ان حالات کو قبول کر کے حکمت اور تحمل مزاجی سے کام لیں گے تو ان شا اللہ اولاد کی خود سری آپ کو خود اعتمادی دکھائی دینے لگے گی بڑھتا بلڈ پریشر نارمل رہ سکے گا اور دشواری آسانی میں بدل جاۓ گی –

فرح رضوان۔

اس مضمون کی اگلی قسط پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں

تیسری قسط