farahrizwan

قسط # 9

مسلمان ساس کے کچھ اجزائے ترکیبی پر بات ہو رہی تھی ۔

شر پسند ہارمونز اور مذہبی حمیت کا بھیس

3# اور معاملہ اگر یوں ہے کہ ان کی حرکتوں سے،آپ کا خون جل رہا ہے تب اگر بات فقط اتنی ہے کہ آپ کے گھر کے رسم و رواج اور قوائد نہیں مانے جا رہے، تب تو کوئی مسئلہ ہی نہیں، اسے خود بھی اہمیت نہ دیں،اللہ نے چاہا تو آپ سمیت سب گھر والے خوش رہیں گے. لیکن معاملہ یہ ہے کہ دین کی حدود کی خلاف ورزی ہو رہی ہے تب بھی، براہ راست اور فوری غصہ یا ناراضگی کام بگاڑ سکتی ہے؛ غصہ ویسے عموما شیطان ہی لے کر آتا ہے کبھی یہ مذہبی حمیت کے بھیس میں ہوتا ہے اور کبھی آپ کی بڑھتی عمر کے ساتھ ،جسمانی، نفسیاتی تکالیف کے سبب اور کبھی ہارمونز کے لبادے میں۔

اگر آپ ٹھنڈے دل اور زبان سے کام لیں اور بچپن کا سیکھا ہوا سبق “پہلے تولو، (یعنی اس سے آپ کے نامۂ اعمال کا کون سا پلڑا بھاری ہوگا ) پھر بولو” ہر بار یاد رکھیں تو ان شا اللہ شر پسند ہارمونز دم دبا کر بھاگتے بنیں گے . اس پریکٹس کے لیے دنیا کی کوئی بھی بات مددگار ثابت نہیں ہو سکتی، جب تک کہ قرآن و سنت کا درست فہم ،اعلی درجے کی جنت کی طلب بلکہ تڑپ پیدا نہ ہو، اچھے لیکچرز،دوستوں اور کتابوں کے ذریعے سے بار بار،اللہ کی رضا کے ساتھ دنیا اور قبر میں ،میدان حشر میں اپنی بقا کے بارے میں ترغیب نہ ملتی رہے، مکمل یقین رکھیں کہ اس کے بعد حکمت، تحمل، دعا اور نرمی سے ان شا اللہ بات بن جاۓگی –

نئے بچوں سے بانڈنگ: گیلے نرم سیمنٹ کا کردار

4# زندگی میں اس طرح نۓ آنے والے بچوں سے بانڈنگ بنانا بہت ضروری ہے،جس میں آپ کا کردار گیلے نرم سے سیمنٹ جیسا ہونا چاہیے جو پختہ اینٹوں کو یکجا کر کے گھر کی فصیل تیار کرتا ہے. لیکن اس کے لیے کچھ اصول گرہ میں باندھ لیں کہ، کبھی بھی اس قرب کی بنیاد “ان پر نہیں” رکھنی۔

خوشگوار سسرال کے 5 بنیادی اصول

1- غیبت سے گریز: گناہ کے ساتھ ہی دوسری وجہ یہ بھی ہے کہ پھر آپ خود ہی اپنے ملنے والے لوگوں میں، چسکیاں لے لے کر صرف ان کے عیب ہی تلاش کرنے اور کڑھنے کا بیج بوئیں گی اور یقیناً نہ اس سے پھوٹنے والی شاخیں کارآمد ہوں گی نہ ہی اس کے پھل آپ کو میٹھے ملیں گے .

2- لغو ٹی وی شوز اور ڈراموں سے دوری: گناہ کے علاوہ، یہ کام ، وقت اور اپنی ذاتی سوچ کا ردی کر ڈالنا تو ہے ہی، دوسری وجہ یہ ہے کہ فضول والے ڈرامے دیکھنے پر نہ جانے کب آپ سب میں “سین کریٹینگ” کا وائرس منتقل ہو جاۓ گا اور اس سے کہیں زیادہ تماشے اور ڈرامے خود آپ کے گھر میں وقوع پزیر ہو سکتے ہیں،جن کو آج آپ وقت گزاری کے طور پر دیکھتے ہیں .

3- جبری عزت اور محبت پر عدم اصرار: بچوں کو نہ تو اپنی جبری عزت کرنے اور نہ ہی آپس میں ایک دوسرے سے محبت پر مجبور کریں؛ پہلی بات عزت کا مالک رب العزت ہے، آپ اس کے اصولوں کی عزت کریں، ان شا الله بدلے میں آپ کو آپ کی سوچ سے بڑھ کر عزت ملے گی- دوسری وجہ یہ ہے کہ آپ کسی کا بھی دل بدلنے پر قادر نہیں، صرف اللہ تعالیٰ مقلب القلوب ہے- تو بچوں کی آپس میں محبت کی ترغیب کے لیے اللہ تعالیٰ سے ہی مدد طلب کیجیۓ، احسن طریقہ وہی آپ سب کے دل وعمل میں ڈال دے گا مع باہمی محبت و ایثار کے -آپ کو زبردستی نہیں کرنی پڑے گی کہ فلاں بہن کی یوں مدد کرو فلاں بھائی سے یوں ملو وغیرہ .

4- دکھاوے اور ریا کاری کا سدِباب: دکھاوے سے بچیں؛ جس کی وجہ یہ ہے کہ اگر مال کا دکھاوا ہوگا تو یہ آپ کی عقل اور اخلاق کو دیوالیہ کر ڈالے گا اور اگر محبت کا دکھاوا ہوگا تو خلوص کو چاٹ جائے گا-کیونکہ محبت بنا محنت تو ہوتی نہیں کچھ نہ کچھ تو کرنا پڑتا ہے، تو جب اس میں اللہ کی خاطر اخلاص نہ ہوگا، تب تمام تر محنت ریا کاری کے زمرے میں اکارت ہی جاۓ گی اور صلہ نہ ملنے کا صدمہ جیتے جی مار ڈالے گا-

5- برابری اور موازنے کا خاتمہ: کبھی بھی کسی بھی بچے میں فرق نہ کریں، اور اگر اس خرابی کا آپ کو احساس ہی نہ ہو پاتا ہو، تب بھی، کم از کم کبھی بھی کسی کا بھی تقابل/ موازنہ کسی سے بھی نہ کریں۔

بیٹوں کی گھریلو تربیت اور سیرتِ نبویؐ کی ترجیحات

5# ایک تو اپنے لڑکوں کو بھی بچپن ہی سے گھریلو کام کاج کی عادت ضرور ڈالیے، نہ صرف کام میں مہارت آئے گی بلکہ ذہین بنیں گے دوسرا یہ کہ شروع سے انہیں سمجھایا جائے کہ اپنی طاقت کو خیر کے کاموں میں لگانا ہے ،بہنوں کو مارنے کی جھڑکنے کی ان پر شک کرنے کی نہ تو اجازت ہو نہ ہی عادت تاکہ کل کو ان کی بیویاں بھی ان کے جسمانی اور ذہنی تشدد سے محفوظ رہیں، اور یہ خود اپنے نفس کے شر سے حفاظت میں رہیں، دس بارہ سال کے لڑکوں کی تربیت کے لئے پہلے سے پیرینٹنگ سیکھیئے گھر کا ماحول پر امن رکھیں اور بجائے اس کے کہ وہ سکرین یا خدانخواستہ کسی بھی قسم کے نشے کی طرف راغب ہوں انہیں مثبت مصروفیات میں صحت مند مشاغل میں تھک کر سو جانے تک مصروف رکھیں ،بیٹوں کی تربیت میں سیرۃ النبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اہمیت ہمیشہ ترجیحات میں سے ہو، اپنے اطراف میں سب کی سرزنش ان تمام مذاق اور خطابات پر ضرور کیجئے جو مرد کو گھر کے کام کاج میں بیوی کی مدد سے روکتے ہوں –

الحمد للہ ہم مسلمان ہیں، سنت کی اتباع پر اللہ کی رضا کے ساتھ ہی بخشش کا وعدہ ہے، تو بھلا کیوں نہ کریں ہمارے بیٹے اور مرد گھر کے کاموں میں مدد؟ وہ بھی احسن طریقے پر۔ اس عادت سے بعد میں کم از کم اتنا تو ممکن ہو سکتا ہے کہ بہو کی بیماری یا شفٹ جاب وغیرہ کے سبب بیٹا صبح بھوکا گھر سے کام پر نہیں جاۓ گا – ویسے کیا عجب بات ہے کہ بیٹا رات کے وقت دوستوں میں باہر کا کھانا کھاۓ یا گھر پر منگاۓ تو ماؤں کو وہ تکلیف ہرگز نہیں ہوتی جو کہ صبح ناشتے پر بہو سو رہی ہو اور بیٹا باہر سے ناشتہ کر لے۔

“کیا یہ کھلا تضاد نہیں”

فرح رضوان۔

اس مضمون کی اگلی قسط پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں

دسویں قسط