قسط # 6
اچھے سسر کے اجزائے ترکیبی اور زیتون کے درخت کی مثال
اچھے سسر کے چند اجزاۓ ترکیبی پر ان شاءاللہ تھوڑی تھوڑی کر کے بات ہوگی ۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔ کوئ بھی تناور درخت یک دم گھنا نہیں ہوجاتا بلکہ ان گنت موسموں کے تغیرات جھیلتے ہوئے پنپتا رہتا ہے خاص کر زیتون کے درخت تو کئ سو سال پھل دیتے ہیں۔
کسی مسلمان سسر صاحب کی کم سے کم پرسکون زندگی کا بھی نقشہ کھینچا جائے تو اس میں فرمانبردار داماد یا بہوئیں کچھ گرینڈ کڈز تو ہوں گے ہی لیکن اس سے پہلے خیال کرنے والے بیٹا بیٹی اہم ہیں اور اس سے بھی بڑھ کر محبت کرنے والی وفا شعار بیوی ۔۔۔۔واپس چلتے ہیں درخت کی مثال کی طرف کہ ایک درخت نہ سایہ دے نہ پھل دے صحن کے بیچوں بیچ جگہ تنگ کر رہا ہو، پتے جھڑنے سے مسلسل کچرا پھیل رہا ہو جڑیں باہر نکلنے سے لوگوں کے پیر الجھتے ہوں ٹھوکر لگتی ہو، شاخیں اتنی کمزور کہ جھولا بھی نہیں ڈال سکتے تو بتائیں بھلا کہ اس درخت کے بارے میں کیا فیصلہ کیا جائے گا ؟
جوانی میں تیاری: بیجا غصے پر قابو اور رشتوں کی عفت
تو آج جس آپ جوان ہیں یا میچیور ایج میں داخل ہوچکے ہیں اچھا سسر بننے کی تیاری شروع کر دیجئے ۔بچے چھوٹے یا بڑھتی عمر کی جانب رواں ہیں تو ابھی سے اپنے بیجا غصے پر قابو پانا سیکھیں کیونکہ ان کی یاداشت اور نفسیات بننے سنورنے کا یہی وقت ہے، یقین جانیں کہ کام رب کرواتا ہے غصہ نہیں تو رب سے بنا کر رکھیں نا!
اور وہ بیوی جس سے آج آپ اس خدشے کی بنا پر کہ کہیں یہ سر پر ہی نہ چڑھ جائے زیادہ کھل کر اظہار محبت تو کرتے نہیں مگر رعب میں بہت رکھتے ہیں، اس شرم سے کہ کہیں کوئ زن مرید نہ کہہ دے خاندانی معاملات میں اس کے ساتھ نہیں کھڑے ہوتے، اپنی سستی کے مارے کہ فلاں ذمہ وہ ادا کر تو لیتی ہے نا آپ بہت سے کاموں میں ہاتھ نہیں بٹاتے، کہیں لالچ کے ہاتھوں اس کے مال کو بھی ہتھیا لیتے ہیں۔ شادی شدہ ہو کر بھی آنکھ کان دل کی عفت کا خیال نہیں رکھتے تو ابھی ہی وقت ہے کہ خود کو اپنے اچھے پروقار پرسکون بڑھاپے کی خاطر بدل لیں اور ہوسکے تو نیت مزید بہتر کر کے اپنے رب کی خوشنودی کی خاطر یہ معاملہ کر لیں، کیونکہ ایک پاک دامن مددگار سکھ دکھ کا ساتھی نرم خو عباد الرحمٰن تو رب العزت کی طرف سے ایک مسلمان مرد کے لئے معیار اور پیمانہ ہے ، یہی اس کی فیملی کے لئے بھی باعث سکون ہے اور اس کے اپنے مستقبل کے لئے بھی باعث برکت خواہ یہ مستقبل بڑھاپے والا ہو، موت کے وقت، اس سے آگے برزخ اور مزید آگے روزحشر اور پل صراط تک کا سفر ۔
البتہ آپ کے نصیب میں بدزبان بدخو یا خدانخواستہ بدکردار بیوی آگئ ہو تو حتی الامکان اس کی تربیت پر محنت کریں یا پھر قرآن میں دیئے گئے اصولوں کے مطابق اپنی زندگی کے صحیح فیصلے بروقت کیجئے ۔
چالیس سال کی عمر اور زندگی کے پرچے کا توازن
چلیں اب ذرا سا آگے بڑھتے ہیں چالیس کی عمر کراس کرتے ہوئے تین کام ضرور کرلیں ایک تو غذا میں مزید احتیاط اور مناسب ورزش ساتھ ہی اپنی روحانی زندگی کو فقط نماز روزے صدقے تک محدود نہ رکھیں۔
معتبر تعلیمی نظام میں پاسنگ مارکس کا کم سے کم اسی فیصد ہونا لازم ہوتا ہے، بیس فیصد کمی معاف کر دی جاتی ہے کہ ہر کوئی سوفیصد نمبر نہیں لاسکتا – مسلمان کا معامله یہ ہے کہ اصل اور درست اور مستند العلم الغیب ہی سے اس کے سارے پرچے حل ہو سکتے ہیں لیکن آج وہ اپنی زندگی کے پرچے کو اسی فیصد دنیا کے علوم سے حل کررہا ہوتا ہے جس کے باعث اکثر فساد کا شکار ہو کر ہر اس اخلاقی برائی میں ملوث ہوتا چلا جاتا ہے جس سے بچنے کے لئے حفاظت کی دعائیں سکھلائی گئی ہیں ،یعنی ہوس زر ،حق تلفی ،دکھاوا، بناوٹ ،جھوٹ، چغلی، بہتان ،شک ،بزدلی غرض تقوی کے تحت عبد اللہ اور عبد الرحمٰن بننے کے بجاۓ عبد الدینار یا عبد النفس بن چکا ہوتا ہے –
اخلاقی شگاف اور سر کٹی بزرگی کا نقصان
بیس نمبر جو پرچے میں حاصل کیے تھے اس سے ” مذہبی ” خیال کیا جاتا ہے، لیکن اخلاق میں شگاف پڑ جانے کی وجہ سے اپنی مرضی کے خلاف باتوں پر پھٹ پڑنا عام ہو جاتا ہے ،دوسرا یہ کہ کچھ لوگوں کا غبار نکالنا تو اولڈ ایج بینیفٹ میں ایڈجسٹ ہو جاتا ہے باقی کو اگر بائے پولر ہونے کا سرٹیفکیٹ مل جاۓ تو وہ مرض کی آڑ میں کہیں زیادہ بے قابو غصے کا اظہار کرتے دکھائی دیتے ہیں، جب انسانوں سے معاملات عبادات میں شامل نہ سمجھے جائیں تو تقوی نرمی تحمل اور حکمت ندادرد ہوتے ہیں –
احادیث کا مفھوم ہے کہ جو نرمی سے گیا سمجھو ہر خیر سے گیا ،اور نرمی پر تو وہ ملتا ہے جو کسی بھی اور نیکی پر نہیں ملتا جبکہ حکمت کا سر تقوی ہے -یعنی ہم یوں سمجھ لیں کہ ایسا انسان سر کٹا بن جاتا ہے، سرکے ساتھ موجود دماغ ،کان ،آنکھ سے محروم –
تقویٰ کی عدم موجودگی اور خاندانی فیصلوں پر اثرات
بتائیں بھلا کہ ایسا سرکٹا انسان کسی کا سسر بن جاۓ تو کیا کیا ظلم نہیں ڈھائے گا ؟ کسی صالح یا اپنے ہی جیسے “مذہبی ” داماد سے کیسا برتاؤ ہو گا؟ اگر بیٹی کو شادی میں مسائل کا سامنا ہو تو کیسے حل کرسکتا ہے ؟ بیٹی اگر غلط بات پر ضد لگا بیٹھی ہو تو کیسے سمجھاۓ گا اور بیٹی بالکل درست فیصلے پر ڈٹ چکی ھو تو کیسے سپورٹ کرے گا ؟ مال دار ہوگا تو مال سے آخرت کیسے بنا سکے گا ؟ مال نہ ہو تو پھر توکل علی اللہ کیسے کر سکے گا ؟
اور اگر کسی شریف النفس بہو کے سسر بن گۓ اور بیٹا صالح یا اعتدال پسند نہ ہوا، بزدل یا لاپرواہ ہوا تو بہو اور اس کے گھر والوں کی دنیا بلکہ اپنے پوتے پوتی تک کی دنیا اور خود کی آخرت کا کیا حال ہوگا ؟ ساری کی ساری خرابی صرف اس وجہ سے کہ تقوی کیا ہے سمجھا نہیں ،اہم نہیں جانا تو سیکھا بھی نہیں حاصل بھی نہیں کیا – ایسے انسان جس کسی سے محبت یا نفرت میں معاملات کریں گے ان سب متاثرین پر “مذہبی” لوگوں کا کیا تاثر بیٹھے گا ؟
ادخلو فی السلم کا حکم اور کامل کامیابی
۔۔۔۔۔۔۔ اسی لیے تو اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے کہ دین میں پورے کے پورے داخل ہو جاؤ – پورے کے لیے کوشش ہو گی تبھی تو اسی فیصد کامیابی ملنے کی کچھ امید رکھی جاسکتی ہے۔
فرح رضوان۔
اس مضمون کی اگلی قسط پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں