farahrizwan

قسط # 7

بیٹیوں کا بیجا لاڈ اور رشتہ داریوں میں مالی کرپشن

سسر صاحبان کے بارے میں گزشتہ تحریر میں جس پوائنٹ پر بات ختم کی تھی وہیں سے سلسلہ جوڑتے ہیں پھر ساس صاحبہ کی طرف آتے ہیں ۔

درست خطوط پر تربیت کے پرچے کو اہم نہ جاننے کی وجہ سے معاملات زندگی میں صرف بیس فیصد نمبر حاصل کرنےوالوں کی ایک اور قسم ہوتی ہے محبت سے لبریز؛ اب اگر یہ کسی داماد کے سسر ہیں تو اس کی شامت، کیونکہ یہ اپنی لاڈلی بیٹی سے بہت محبت رکھتے ہیں ،بٹیا کی شادی تو کر دی لیکن اس کی رخصتی کے بعد بار بار اسے میکے بلانا ،ادھر سسرال اور شوہر ڈسٹرب ہوں اور اگر ان کا اپنا جوائنٹ فیملی سسٹم ہو تو بہویں اور ان کے بچے مشکل میں گرفتار – داماد ان کی بیٹی کی بہتر اور جائز طور پر تربیت کرنا چاہے تو ان کو گزرتا ہے ناگوار اور کمر کس کر داماد کو ٹف ٹائم دینے تیار،اب اگر شریف داماد ہو تو اس کے لیے مشکل اور ہو خوددار تو بیٹی کے لیے دشوار –

بیٹیوں کا دلار جب اس طرح کیا جاۓ کہ ان کے سسرالوں کو مالی طور پر متاثر کرکے دل جیتنے کی کوشش کی جانے لگے تو رشتہ داریوں میں یہ خاصی بڑی کرپشن بن جاتی ہے کیونکہ ان بیٹیوں کی نندیں جیٹھانیاں دیورانیاں بھابھیاں بھی کسی کی بیٹیاں ہی ہوتی ہیں نا ! ایک تو سب مالدار گھرانوں سے ہوں یہ ضروری نہیں ساتھ ہی وہ اپنے میکے والوں سے یہ رشوت یا بھتہ اپنے سسرال والوں کو دلوانا چاہیں یہ ان کے ضمیر کو گوارا نہ ہونے پر،شیاطین کمزور ایمان کے انسانی مہروں کے ذریعے ان کے سسرالوں میں تقابل کا ماحول گرم کر دیتے ہیں جو بہت بڑا سماجی ظلم،جور و ستم اور شدید نا عاقبت اندیشی ہے –

اخلاقی ظلم: بیجا مالی رعایتیں اور انا کی دیوار

ظلم کی تعریف بھی یہی ہے کہ کسی چیز کو اس کے درست مقام پر نہ رکھا جاۓ – اسی ظلم کی ایک اور بھدی شکل یہ بھی ہوتی ہے کہ جب کبھی سسر صاحب بہو پر پھٹ پڑے اور بعد میں خیال آیا کہ اوہ یہ تو زیادتی ہو گئی تو اب مالی طور پر یا دوسری بیجا رعایتیں دے کر حالات سدھارنے کی کوشش کرنا مگر خود اپنے اخلاق میں سدھار نہ لاکر دینا ،بار بار کسی بات پر پھٹ پڑنا اور پھر وہی رعایتوں کے انبار-

بیٹی کی مرضی سے شادی تو کردی لیکن بعد میں اسے وہ عزت یا محبت نہ دی تو ممکن ہے کہ داماد اپنے سسر کے اس رویے سے ناجائز فائدہ اٹھا کر آپ کی بیٹی کو تنگ کرے -اس کا ایک نقصان تو خود آپ کو ہوگا کہ اولاد کے دکھ سے آپ دکھی ہوں اور اگر دکھی نہ ہو کر دل کی سختی اس حد تک بڑھ جاۓ کہ الٹا خوشی محسوس ہوکہ اب بھگتو تو ایسے انسان کے لیے کوئی نصیحت کام نہیں آنے والی؛ رب العزت نے ایک قاعده سمجھا دیا ہے کہ نصیحت کرو انہیں جنہیں یہ فائدہ دے –

بہو بیٹے کے معاملات اور گرینڈ کڈز پر ویٹو پاور

ایسے سسر بھی ہوتے ہیں جن کو بیٹیوں کی مانند بہو سے بھی محبت ہوتی ہے اگر بہوئیں ساتھ میں رہتی ہوں اور محترم سسر صاحب میں حکمت و اعتدال کی کمی ہو تو کئی بار یہ اپنے بیٹوں سے ہی بگاڑ پیدا کر لیتے ہیں – سسراور والد کی عزت اپنی جگہ لیکن ان کو یہ حق حاصل نہیں کہ بیٹا اگر بیوی کو کسی وجہ سے کہیں پر جانے نہیں دے رہا تو یہ بہو کے حق میں فیصلہ سنا دیں،ویسے بھی جب نئی بہو ہو اوراسے یہ رعایتیں میسر آجائیں تو وہ نادانی میں شوہر کے خلاف جاکر سسر کو ہی اہمیت دے گی جس سے باپ بیٹے میاں بیوی سب کے آپس کے تعلقات خرابی کی طرف جاسکتے ہیں،لہٰذا کبھی بیٹے کی جانب سے زیادتی محسوس ہو تو اسے تنہائ میں سمجھایا جانا ہی کارآمد ثابت ہو سکتا ہے –

کہیں گرینڈ کڈز سے وہ محبت امڈ کر آنے لگے گی کہ والدین جو کچھ بھی کسی وجہ سے ان کو نہیں کھلانا چاہتے وہ چپکے سے یا آرڈر دے کر کھلا دینے کی لت بچوں میں ڈالنا ،کہیں گیجٹس اور پڑھائی کے معاملے میں والدین کے اصولوں کے برخلاف بچے کی ضد پر اپنا ویٹو پاور استمعال کرنا یہ سب باتیں بار بار ہونے کی وجہ سے انسان اپنی محبت عزت اور قدر گنوا دیتا ہے- اگر ریٹائرمنٹ لے چکے ہوں تو مزید ایک ساس بن جانے سے خود کو بچانے کی کوشش کریں – البتہ یہ آپ کا فرض ہے کہ گھر میں ساس بہو ،نند بھاوج کے مابین جھگڑے ہو رہے ہوں تو ایک شفیق بزرگ کی مانند معاملات کو سلجھانے میں اپنا کردار ادا کریں –

بزرگی کا ہنر، تزکیہ نفس اور میاں بیوی کا بڑھاپا

تو للہ وقت رہتے کچھ اپنے نفس پر کام کریں ،کچھ مینٹل ہیلتھ پر،کچھ نیا اور کارآمد سیکھنے پر، کچھ گھر کے کاموں میں ہاتھ بٹالیا کریں ،کچھ اپنے سے زیادہ اچھے دوست ضرور بنائیں کچھ جائز تفریح ضرور کریں ،کچھ معذرتیں قبول کر لیا کریں ،کچھ قصور بغیر معافی مانگے بخش دینا سیکھ لیں، تازہ ہوا میں واک کریں،جم جوائن کریں سپورٹس سے دل لگائیں،رب سے لو لگائیں تاکہ آپ سمیت بیک وقت کئی افراد کی زندگی اور آپ کی آخرت تباہ ہونے سے بچ سکے –

ممکن ہے کہ آپ محبت اور ذمہ داری سے ساری عمر اپنی جان ہلکان کر کے بیوی بچوں کے سکھ کا بساط بھر انتظام کرتے رہے ہوں ،بچوں کی تعلیم میں تمام سرمایہ خرچ ہو گیا ہو اور اب آپ کو اچھا نہیں لگتا اولاد سے مدد لینا ،مالی بھی اور جب بیمار ہوں تب جسمانی بھی ،تب دل کی گہرائیوں سے انہیں اور ان کی نسلوں کو ہدایت اور اللہ کی رضا پالینے کی دعائیں دینا ہے سیلف پٹی میں نہیں جانا آپ کی دل سے نکلی دعا سے بڑھ کران کے لئے کرہ ارض پر کوئی انعام کوئ تحفہ نہیں اور ان سے مدد لینا اب آپ کا حق ہے اس میں شرمندہ ہونے کی کوئی ضرورت ہی نہیں –

گو کہ بات ہو رہی تھی ایک اچھے سسر کے اجزاۓ ترکیبی کی لیکن زیادہ تر بات یہ ہوتی چلی آرہی ہے کہ کیا نہیں کرنا چاہیے،درحقیقت جب اندھیرا دور ہوگا تو از خود روشنی آجائے گی،آپ اگر اعلی پاۓ کے مسلم سسر بننا چاھتے ہیں تو تزکیہ نفس اور کانٹ چھانٹ تو کرنی ہی ہوگی نا ! یوں بھی ہم اگر صرف پاۓ ہی بنانا چاہیں تو اس کے تمام اجزاۓ ترکیبی موجود ہونے کے باوجود تیاری کے مراحل میں بہت زیادہ وقت تو ایک ایک بال کو کھال سے جدا کر کے اسے قابل استعمال بنانے میں درکار ہوتا ہے ،اس کے بعد تمام اجزا کو ملا کر ڈھکنا لگانا اور تادیر گلانا ہوتا ہے -اسی سے ملتا جلتا کام ایک اچھا سسر بننے کے لیے بھی کرنا ہوگا۔مدھم آنچ پر دم آخر تک تزکیہ نفس بھی اور اپنی ذاتی بیگم سے تعلقات میں بہتری کی خصوصی کوشش بھی ۔

آپ کی عمر کے ساتھ ساتھ آپ کی بیگم کی بھی عمر ڈھلتی ہے بلکہ خواتین تو بہت تیزی سے یہ سفر طے کرتی ہیں تو وہ رشتہ جو مودت اور رحمت پر قائم ہوا تھا اب اس میں رحمت کی قدم قدم پر ضرورت ہوتی ہے۔ اگر آپ عارضے اور تکلیف میں مبتلا ہیں تو یقین کریں کہ یہ آزمائش ہے کہ اب اخلاق کس درجے پر ہوں گےاور اگر بیگم کسی عارضے میں مبتلا ہوں تو یہ وقت ہے کہ آپ بھر پور تیمارداری کے سارے ثواب بھی کما لیں اور ماضی میں ہوجانے والی تلخیوں کے آثار بھی مٹا ڈالیں ۔ یہ تو ہم سب جانتے ہیں ناکہ ماں کے پیروں تلے جنت ہے لیکن یہ بات خود سے سمجھنے والی ہے کہ جو عورت آپ کے بچوں کی ماں ہے اس کی دلجوئی سے گھر جنت بن جاتے ہیں۔ جبکہ وہ گھرانے جہاں کے مرد بڑھاپے میں ہونے والی تکالیف یا کمزوری کو طاقت میں بدلنے کا واحد حل بیوی پر غصہ کرنا اس کی تذلیل کرنا سمجھ لیں وہ دنیا اور آخرت دونوں کا سودا اور زندگی کا سواد برباد کرلیتے ہیں۔

بچوں کی پسند کی شادی اور منگنی کا گولڈن پیریڈ

چلیں واپس اولادوں کی طرف آتے ہیں،ایک مرحلہ ہمارے معاشرے میں ان بچوں کی اپنی پسند کی شادی کا بھی ہے – جس میں دو رویے بہت تکلیف دہ ہیں ،ایک یہ کہ دوران تعلیم بیٹا یا بیٹی بتایں کہ آپ کے لئے بہو یا داماد کی تلاش کو ہم نے آسان کر دیا ہے اور آپ کو اس بات پر کوئی اعتراض بھی نہیں لیکن! آپ ایسے فتنے کے دور میں صرف بات پکی کر کے یا منگنی کر کے اسے گولڈن پیرئیڈ کا نام دے کر بغیر نکاح کے بچوں کو شیطان کا تر نوالہ بنا دیں تاکہ بچے پڑھ لکھ کر کسی قابل ہو جائیں تو ساری برکتیں نچوڑ کر آپ نے انہیں کسی قابل چھوڑا ہی کہاں ہے ؟

دوسرا رویہ یہ ہوتا ہے کہ اولاد کی پسند آپ کو پسند نہیں آئ ،ممکن ہے واقعی قابل اعتراض بات ہی ہو مگر اس معاملے کو حکمت سے سنبھالنے کے بجاۓ آپ حد درجے تذلیل کرتے ہیں،اب اگر اولاد شادی نہ کرے تو بھی ٹوٹ پھوٹ کر شیطان کا تر نوالہ اور اگر اس نے پھر بھی شادی کر لی کہ نکاح آدھا دین ہے اور پسند تو لڑکی کی بھی شامل ہونی ضروری ہے ؛مگر آپ کی انا ایسی جاگتی ہے کہ پھر نہ تو سوتی ہے نہ مرتی ہے بلکہ آپ اپنی ہی اولاد اور اس کے شریک حیات کی حیات کو تنگ کر ڈالتے ہیں – ہوتا کیا ہے کہ کبھی کبھی کچھ عمارت اتنی بوسیدہ ہو چکی ہوتی ہیں کہ ان کو مسمار کرنا پڑتا ہے ،ان کی لوکیشن اچھی ہوتی ہے بنیادیں مستحکم ہوتی ہیں تو پھر سے نئی عمارت تعمیر ہو جاتی ہے جو خوشنما بھی ہوتی ہے کارآمد بھی –

مال کی فکر، زندگی کے اسباق اور جدید پیرنٹنگ

مال کی اہمیت سے کوئی انکار نہیں کرسکتا لیکن ہر وقت میرا مال میرا مال کرنا ،کھانے کے دوران بلز کی فکریں ،کاروبار کی جمع جوڑ مہنگائی کا خوف ،اس پر تقریر ،بچوں کی فضول خرچی پر تنقید نہایت غیر مہذب رویہ ہے – اگر سمجھانا ضروری ہو تو وقت موقع دیکھ کر سمجھائیں ،اگر نہیں سمجھتے اور آپ ہلکے پھلکے مالی دھچکے سہنے کے قابل ہیں تو انہیں ایک دو ماہ خود سے سیکھنے دیں ،ایسا سبق یاد ہوگا کہ روز کی بدمزگی سے ہمیشہ کی نجات میسر ہوگی ،آخر کو لوگ بڑی بڑی ورکشاپس کی بھی تو فیسس سبق سیکھنے ہی ادا کرتے ہیں تو ایک آدھ سبق زندگی سے سیکھ لینے دیں،لیکن تب طعنے دے کر احسان جتا کر شرمندہ نہ کریں کیونکہ آپ مسلمان ہیں نا اس لیۓ یہ آپ کے لیے فائدہ مند نہیں ،البته چپکے چپکے رب کا شکر ادا کرنا ضرور یاد رکھیں –

یہ بھی تو سمجھنے والی بات ہے کہ گزرتے دور کے ساتھ زندگی کی ترجیحات میں نمایاں فرق آیا ہے لیکن ہر دور میں ایک بات ثابت رہی ہے کہ خاص ہے ترکیب میں قومِ رُسولِ ہاشمی ﷺ۔

ریسیشن اپنی جگہ بہت بڑا امتحان سہی لیکن مسئلہ تنگ دستی سے کہیں بڑا دل کی تنگی کی وجہ سے ہوتا ہے – ہاتھ کھلا ہو تو اپنی اولادوں میں برابری کی بنیاد پر تحائف ،رعایات دینا بھی دین ہی کا حصہ ہے ۔ پھر یہ کہ پیرنٹنگ کی تیکنیک میں بڑا نمایاں فرق آیا ہے ،آج کے والدین اگر اپنی اولادوں کو جدید طریقوں پر پالنا چاہتے ہیں تو اسے اپنانے میں تب تک کوئی حرج نہیں جب تک کہ دین سے نہ ٹکراۓ ،گزشتہ کئی سال میں ہم نے سواریاں بدل کر نئی اپنا لیں ،گیجٹس اپنا لیے ان کو خوش آمدید کہا انہیں جانا تو ان سے لطف اور فائدہ اٹھانے لگے ،اسی طرح جدید پیرنٹنگ بھی ہے ہمارے بچے بھی ان کے بچے بھی ،ہم جتنی سہولت سے ان کو ویلکم کریں اور سیکھیں ہمارا اور ہماری خوش باش نسلوں کے لیے ان شا اللہ ایک اچھا قدم ہوگا-

فرح رضوان۔

اس مضمون کی اگلی قسط پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں

آٹھویں قسط