farahrizwan

قسط # 8

اچھی ساس کے اجزائے ترکیبی اور ٹریفک وارڈن کی مثال

اچھی ساس کے کچھ اجزائے ترکیبی پر بات کر لیتے ہیں ۔

جیسے ہر طرح کے حالات میں چوراہے پرکھڑا ٹریفک واڈن ، ہرسمت سے آتی جاتی، مختلف برق رفتار گاڑیوں کے بیچ ان کی آمد و رفت کو مستعدی، دانشمندی اور ایمانداری سے ممکن بناتا ہے – کچھ اسی طرح کی ذمہ داری، ایک ساس کی بھی ہے، جو گھر میں موجود افراد خانہ کو آپس میں ٹکراؤ سے بچاتی اور تعلقات میں نظم و ضبط کی ہر ممکن سعی کرتی رہتی ہے –

پہلی بات تو اس مثال سے یہ واضح ہوجانی چاہیے کہ پیدل ہوں یا سوار کوئی بھی “کار سرکار” میں مداخلت نہ تو کرسکتا ہے، اور نہ ہی نااہلی ، لالچ یا کسی دباؤ کی وجہ سے “سارجنٹ” صاحبہ کو خود کسی کو بھی کرنے دینی چاہیے- دوسرا یہ کہ اتھارٹی ہونے کے باوجود بھی “ٹریفک پولیس” بھی ہوتی تو وہی، خطا کی پتلی ہی ہے، اسے بھی، اس پوزیشن پر متعین خود کو پرستش کیے جانے والا مقدس مجسمہ نہیں سمجھنا چاہیے، بلکہ رب تعالیٰ کے عطا کیۓ گۓ محاذ پر حتی الوسعت مجاہدہ جاری رکھنے کی ضرورت ہوتی ہے –

جہیز کی نفی اور با اخلاق رویے کی حقیقی ذمہ داری

کسی جگہ لکھا دیکھا تھا کہ “میں ایک اچھی ساس بنوں گی، میں اپنی بہو سے جہیز نہیں لونگی” جہیز کا لالچ نہ ہونا بہت اچھی بات ہے لیکن! سوال یہ ہے کہ کیا جہیز کے “تحائف” نہ لے کر بھی آپ اپنی بہو کو، عزت ، محبت، سہولت وغیرہ دینا اپنا فرض اور اس کا حق سمجھیں گی؟

کیونکہ شادی کے شروع میں کچھ ضرورت کی اشیاء دلہن کی وقتی اور مالی ضروریات ہوتی ہیں آپ کسی وجہ سے یہ نہ بھی پوری کرسکیں، تو کوئی بھی اور انسان یہ کمی پوری کرسک سکتا ہے، لیکن صرف آپ کے حصے کا با اخلاق رویہ مکمل طور پر آپ کی ذمہ داری ہوگی بھی رہے گی بھی۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔ اس مضمون کے کچھ حصے کیے جارہے ہیں، شروع میں نارمل حالات میں ساس کے کردار میں بہتری کی کچھ یادہانیاں ہوں گی جبکہ أخری حصّے میں ٹیڑھی کھیر جیسی بہو کی آزمائش مل جانے پر کئے جانے والے اقدام ہوں گے۔ ان شا اللہ .

نکتہ اول: مستقبل کی تیاری اور اکلوتے بچوں کی نفسیات

1# : جیسے بچپن سے ہی بڑے ہو کر کامیاب انسان بننے کی تربیت شروع ہو جاتی ہے۔ اسی طرح اگر آج آپ ماں بن چکی ہیں، تو ابھی سے، اپنے آپ کو ساس بنانے کی تربیت شروع کر دینا چاہیے.

اگر بیٹا یا بیٹی میں کوئی بھی ایک، یا بالکل اکلوتا ہے، جس میں آپ کی جان اور انگنت ارمان اٹکے ہوئے ہیں تو سب سے پہلے تو اس بچے کو اکلوتے لاڈلے کا اس شدت سے احساس نہ ہونے دیں اور خود کو بھی نارمل والدین جیسے رکھیے – ارد گرد کے دوسرے بچوں پر اعتدال میں رہتے ہوۓ اپنا وقت، مال اور محبت سبھی کچھ صرف کریں ساتھ ہی اپنے بچے کو شئرنگ کا عادی بنائیں- بچے کو بھی خود انحصاری پر مائل رکھیں۔ ساتھ ہی خود بھی اس کی ضرورت سے زائد توجہ اور محبت پانے کی خواہش سے بچنے کی ممکنہ کوشش کریں۔ کیونکہ لڑکی ہو یا لڑکا کل کو اس ایک اکلوتے لاڈلے/لاڈلی کی شادی ہو گی، تب دوسروں سے اسے وقت، مال اور محبت سبھی کچھ ہر صورت بانٹنا ہی ہوں گے ۔

بچے ایک سے زیادہ بھی ہوں تب بھی مندرجہ بالا احتیاط لازم ہیں ساتھ ہی کھیل یا پڑھائی یا عام زندگی میں بچوں کو ہار تسلیم کرکے مثبت رہنے اور جیت کر قابو میں رہنے کی تلقین کرتے رہیں۔

نکتہ دوم: قدرت کا مفت تحفہ اور سسرالی والدین کی تکریم

2# بچوں کی پیدائش کے ہر مرحلے پر آپ کو انگنت دشواریوں کا سامنا کرنا پڑا ، راتوں کی نیند، دل کا چین سالہاسال کی بیقراری میں بدلتا گیا ، کبھی اولاد کے لیے جھکنا پڑا تو کبھی ٹوٹنا بکھرنا بھی پڑا، غرض اپنی اولاد کے، بیج سے کونپل، پھر پودا اور تن آور درخت بننے تک، جیسی باغبانی آپ نے کی……. بالکل ایسا ہی سب کچھ، یا شاید اس سے کہیں زیادہ، ایک اور ماں بھی کرتی رہی…. آپ کی بہو یا داماد کی ماں۔

اس بات کو کبھی فراموش نہ کریں کہ آپ کے ایک بچے پر دوسرا یعنی اس کا جوڑی دار، قدرت کی جانب سے آپ کو بالکل فری، فری، فری ملتا ہے، آپ کو سالہاسال اس کے لیے کوئی ایک بھی مشقت نہیں جھیلنی پڑتی، تو اگر اب خدانخواستہ بہو یا داماد سے کوئی خلاف منشا بات سرزد ہوتی بھی ہے، یا وہ آپ کی پسند کے ہی نہیں، تب بھی، جوڑ تو ان کا الله تعالیٰ نے ہی بنایا ہے، اللہ تعالیٰ کی اس تقسیم پر راضی رہنا سیکھیں اور سوچیں کہ کیا یہ آزمائش، ان تمام تکالیف کے مقابلے میں کچھ بھی حیثیت رکھتی ہے ؟ جو لمحہ لمحہ کئی سال آپ کو اپنی ہی اولاد سے ملتی رہیں ؟

زبان کے نیزے اور جہنم کی وعید سے بچنے کی فکر

تو کیا اس فری ملنے والے بچے اور اس کے والدین کی تکریم، ہم پر اخلاقی طور پر واجب نہیں ہوتی ؟ کیا مسلمان کی آبرو، مال اور خون دوسرے مسلمان پر حرام نہیں؟ تو پھر کیوں ہم بعض اوقات ان کی بے عزتی کرتے ان کی غیبت کرتے ہوئے بھول جاتے ہیں کہ یہ بھی کسی مسلمان کا حق مارنا ہے-

طعنہ یعنی لفظوں کے نیزے سے حملہ کرتے وقت کیوں یاد نہیں رہتا کہ سامنے والا بھی مسلمان ہے اور بظاہر ہماری تلخ بات سے اس کا خون بہتا دکھائی نہ بھی دے لیکن جلتا کڑھتا تو ہوگا ہی ۔۔۔۔۔۔۔ اور حقیقت تو یہ ہے کہ ہمیں “ویل” نامی جہنم سے بچنے کی ہر ممکن کوشش کرنی ہے جو پیٹھ پیچھے غیبت اور مونہہ پر طعنہ زنی کرنے والوں کا ٹھکانہ ہے۔

اللھم احسن عاقبتنا فی الامور کلھا و اجرنا من خزی الدنیا و عذاب الآخرۃ ۔

فرح رضوان۔

اس مضمون کی اگلی قسط پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں

نویں قسط