farahrizwan

قسط # 12

مسلمان ساس کے چند اجزائے ترکیبی۔

کٹھن سسرالی حالات اور استغفار کا مضبوط حفاظتی خول

مانا کہ کئی بار ایسا بھی ہوتا ہے کہ ایک خاتون اپنے نجی حالات کی تپش میں پہلے ہی سلگ چکی ہوتی ہیں کہ زندگی کے اگلے باب میں بہو یا داماد اپنی ساس کے لئے مزید دو آتشہ ثابت ہوتے ہوئے داخل ہو جاتےہیں۔ وجہ الف سے ے تک کچھ بھی ہو لیکن اس موڑ پر جہاں کوئ سننے سمجھنے کو تیار ہی نہ ہو,تمام تر کوتاہیوں سمیت نڈر بے باک،گستاخ بھی ہو تو کیا کیا جاۓ ؟

1# سب سے پہلے یہ دیکھیں کہ صورتحال ہے کس حد تک سنگین ؟ کیونکہ یہ بھی ہمارے ہی معاشرے کا ایک سیاہ رخ ہے کہ فون یا انٹرنیٹ کی خفیہ دوستیوں کے بعد شادی کی صورت میں بعض اوقات اتنے بھیانک نتائج تک سامنے آئے، کہ معلوم ہوا، گھر آنے والی بہو اور اس کے میکے والوں کی پشت پر انتہائ خطرناک لوگ موجود ہیں- تو وہی لڑکی، جس پر کل تک محبت کے نشے میں مد ہوش لڑکا جان وارنے کو تلا بیٹھا تھا، آج ہوش ٹھکانے لگنے پر اس لڑکی سے اس کا جان چھڑانا قریباً ناممکن ہی ہو چلا ہے، کہ اپنی زندگی اور گھر میں موجود بہنیں آخر کسے پیاری نہیں ہو تیں؟ اس صورتحال میں تو سوائے صبر، استغفار اور توبہ کے کوئ چارہ رہ ہی نہیں جاتا –

(البتہ یہاں اِستغفار جس کا روٹ ورڈ غ -ف -ر ،ہے یاد رکھنا کافی کارآمد ہو سکتا ہے؛ غفر = کسی چیز پر کوئ ایسی چیز کا (مضبوط حفاظتی خول) پہنا دینا جو ، اسے میل کچیل یا کسی بھی دوسری مضرت سے محفوظ رکھے – یعنی الله تعالی کا اپنے بندوں کو ان کے گناہوں کی عقوبت سے بچانا -)

سیلف پٹی کی دلدل، غیبت کا خسارہ اور بے سند وظائف

2# کیونکہ اختیار کی کنجی آپ کے عمل کی محتاج ہے تو دوسری صورت یہ بھی ممکن ہے، جو کہ معاشرے کا عام چلن ہے ، یعنی آپ کی حد درجے شرافت کے سبب آپ جیسے کو تیسا نہ بھی جواب دیں، لیکن ! “بس کیا بتاؤں بہن ! تم کسی سے نہ کہنا” کے بعد سارے جہان کو سب ہی کچھ کہہ ڈالنا- جس پر لوگوں کا خوب کان لگا کر سننا اور آپ کے دکھ کو اس قدر محسوس کرنا اور کروانا کہ پھر آپ کے مسلسل سیلف پٹی کی دلدل میں دھنستے چلے جانے کے سبب، غم جاناں کا شکار ہو کر بیماریوں میں مبتلا ، ہونا اور ہوتے ہوتے غم دوراں کی نظر ہو کر رہ جانا- اگر اس طرزِ عمل کا نتیجہ دیکھیں کہ کیا کھویا کیا پایا ؟ تو یہ سراسر حکمت سے عاری عمل ہی نظر آتا ہے کیونکہ داماد یا بہو یا کسی کی بھی غیبت کر کر کے، محنت سے کی گئ ڈھیروں نیکیاں اور ساتھ ، صحت ہزار نعمت، سبھی کچھ صرف گنوا ہی ڈالا جاتا ہے؛ ساتھ ہی انمول، نایاب اور قیمتی وقت، جس میں نہ جانے کتنے ہی مثبت کام ہو سکتے تھے؛ جن کا اجر نہ جانے کتنا مل جانا تھا –

3# تیسرا راستہ بظاہر آسان اور پرسکون لیکن حقیقت میں بہت بڑی آزمائش اور سراسر آخرت کے گھاٹے پر مبنی سودا ہے، یعنی کثرت سے بےسند وظائف؛ عاملوں کے عمل؛ درگاہوں پر شرک؛ غیراللہ کی نذرونیاز اور مَنّتیں مان کر اپنی مشکلات کا حل تلاش کرنا۔ عین ممکن ہے کہ اسلام کے نام پر یہ غیر اسلامی کام کسی انسان کو وقتی یا نفسیاتی طور پر کارآمد لگیں، لیکن اصلاً اور دائماً یہ محض ناکامی و نامرادی خرید لینا ہے۔

اوون کا سیلف کلیننگ سسٹم اور آٹو لاک پالیسی

4# راستہ “اختیاری ” صبر کا ہے، یعنی آپ کو پہلی صورتحال کی مانند کسی سے بھی، جان و مال یا اہل و عیال کی عزت کا خطرہ نہیں، لیکن آپ دوسری اور تیسری صورت کی طرح سراسر گھاٹے کے سودے سے محفوظ رہنے کا ارادہ کر چکی ہیں – تو یہ طریقہ جاننے کے لیۓ؛ اوون (Oven) کے سیلف کلیننگ سسٹم کو غور سے دیکھیے!

لیکن ایک منٹ پلیز! ازراہ کرم اس تمام تر پراسیس کو جان لینے سے قبل اس کا پاسورڈ جاننا بھی تو اہم ہے نا !- اور وہ ہے “صحتمند طرز زندگی”، جس کے فقط تین عناصر ہیں:

  • اول نمبر پر نماز: کونسی ؟ اچھی والی -جسے بس پڑھ ہی نہ لیا جائے بلکہ “قائم کیا جائے”۔
  • دوسرا ہے صبر: کونسا والا ؟ صبرٌ جمیلٌ۔
  • تیسرا عنصر ہے مثبت مصروفیت: کتنی مصروفیت؟ کم از کم اتنی تو ضرور، کہ پھر آپ کو کسی بھی شخص کے برے رویے پر کڑھتے رہنے کا وقت ہی نہ مل سکے –

تو آئیے اب دیکھتے ہیں، اوون کے سیلف کلیننگ سسٹم کو؛ کہ پہلے تو ہم بے دردی سے اس بے زبان اوون کو استعمال کر کے، اس کے ساتھ کافی برا سلوک کر ہی رہے ہو تے ہیں، اور اوپر سے سیلف کلینگ کا بٹن بھی آن کر دیتے ہیں، تب اوون کا ردعمل کیا ہوتا ہے بھلا ؟ وہ سب سے پہلے اپنا “دروازہ لاک” کر لیتا ہے کہ اب اندر خانے جو بھی کیمیکل، جتنی بھی تپش، گھیراؤ، جلاؤ کی مہم ہے، وہ مکمل صفائی ہوئے تک، بس اندر ہی اندر چلے گی، کسی بھی باہر والے کو اندرونی معاملات میں مداخلت کی بالکل بھی اجازت نہیں۔

باہر بھی، جن افراد خانہ کو خبر نہیں ہوتی کہ آپ نے سیلف کلیننگ پراسیس شروع کیا ہوا ہے وہ صرف بو سے اندازے ہی لگا پاتے ہیں کہ یا تو کچھ پک رہا ہے یا پھر جل رہا ہے- لیکن “ڈور لاک ہی رہتا ہے” اور باہر والے اٹکل پچو لگا کر یا اوون کا بند دروازہ دیکھ کر اپنی راہ لیتے ہیں کہ “وہ کیوں پرائی آگ میں جلیں”- کیا یہ کام زندگی بھر چلتا ہے؟ نہیں نا ! بس ذرا سی دیر میں اوون پھر سے اجلا ؛ بلکہ نیا ہی ہو جاتا ہے۔ لیکن “دروازہ اب بھی نہیں کھولتا” تاوقتیکہ اندرونی معاملہ، ٹھنڈا نہ ہو جاۓ-

اور پھر کیا کرتا ہے اوون ؟ جب آپ دوبارہ بیکنگ کریں تو کوئی طعنہ ؟ کہ پچھلی بار تم نے یہ غلطی کی تو میرا حشر ہو گیا تھا ، نہیں نا! یہ بات تو آپ کو قدرتی طور پر ہی یاد آجاتی ہے اور آپ از خود احتیاط سے کام لیتی ہیں۔ در اصل اس سارے عمل میں اہم ترین کام، معاملہ ٹھنڈا اور اجلا ہونے تک “دروازے کا آٹو لاک” ہونا ہے ۔

اعصابی استقامت اور قوی مومن کی حقیقی تعریف

ورنہ سوچیں ذرا کہ کس قدر زیادہ خرابی ، اور ایمرجنسی کے امکانات موجود ہوتے ہیں اس عمل میں ؟ ساتھ میں اتنا ہی اہم اس دروازے کے شیشے کا مضبوط و پائدار ہونا بھی ہے – عجیب بات ہے نا ! کہ ہم جانتے تو ہیں کہ اللہ تعالی کو قوی مؤمن پسند ہے، لیکن اکثر اس سے مراد جسمانی قوت لی جاتی ہے، حالانکہ جب ہم یہ سمجھتے ہیں کہ زیادہ طاقتور پہلوان کون سا ہوتا ہے ، تو یہ بھی ذہن نشین رکھنا اہم ہے کہ ایمان کی مضبوطی اور جسم کی توانائی کے ساتھ ہی ہمارے اعصاب، ارادوں اور استقامت کا قوی ہونا بھی بہت ضروری ہے –

غور طلب بات ہے کہ ایک فیکٹری تو یہ جانے کہ اتنے درجہ حرارت کے بغیر اوون کی صفائی ممکن ہی نہیں تو اسی حساب سے وہ اس کے لئے پارٹس اور ٹیمپرڈ گلاس تیار اور نصب کرے۔ اور ہمارا رب؟ أَلَا يَعْلَمُ مَنْ خَلَقَ وَهُوَ اللَّطِيفُ الْخَبِيرُ (کیا وہی نہ جانے گا جس نے پیدا کیا حالانکہ وہ باریک بین ہے اور باخبر)۔ اصل میں تو بس ہمیں بار بار خود کو خبردار کرنے اور یاد دلانے کی ضرورت ہے کہ رب تعالی کسی نفس کو اس کی وسعت سے بڑھ کر نہیں آزماتا اور دوسرا:

“اگر تم صبر کرو اور خدا کا تقوی اختیار کرو تو ان کی کوئی تدبیر تم کو نقصان نہ پہنچائے گی – جو کُچھ وہ کر رہے ہیں خدا اس کا احاطہ کیے ہوئے ہے” (آل عمران :120)

مخلص احباب کا مشورہ اور گاڑی کا “GPS”

فطری سی بات ہے کہ، جب کبھی بھی کسی انسان کے حالات خراب ہوں تو پُر خلوص احباب کو خدشات لاحق ہو ہی جاتے ہیں، کہ معاملہ کچھ گڑبڑ ہے- کچھ پک رہا ہے یا پھر جل رہا ہے، اور آپ نے جو دوسروں کے لیے اس معاملے میں “door locked” کا رویہ اپنایا ہوا ہے، انہیں شدید خدشہ رہتا ہے کہ کہیں آپ اندر ہی اندر گھٹ گھٹ کر نہ ختم ہو جائیں –

لیکن یقین رکھیں کہ آپ کا مشکل کشا آپ کا اصل رہبر، راہنما، لمحہ لمحہ ، قدم قدم پر مکمل ساتھ دینے والا، پیار سے ہاتھ تھام کر منزل تک پہنچانے والا صرف وہی رب واحد ہے جس سے ہم دن رات اھدنا الصراط المستقیم مانگتے ہیں – باقی انسان خواہ کتنے ہی پُرخلوص ہوں ان کی رہنمائی ان کا ہر دم کا ساتھ بھی آپ کے لئے کار میں نصب شدہ GPS سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتا، جو راستوں کے روٹس تو بخوبی جانتا ہے، لیکن اسے ان راستوں پر لگے بند پھاٹک ، ٹریفک جام ، راہگیر یا گڑھے میں سے کسی چیز کا بھی نہ تو کوئ علم ہوتا ہے، نہ ہی اس سے کوئ سروکار – اور کیونکہ آپ ڈرائیور ہوتے ہیں تو آپ کی نظروں کے عین سامنے تمام تر رکاوٹیں اور ان سے تصادم کے خطرات اور سنگین نتائج کا خوف، سبھی کچھ موجود ہوتا ہے – آپ اپنی ذمہ داری کو بجا طورپر سمجھتے اور نبھاتے ہوئے “حالات کے پیش ںظر” لمبا رستہ یا یو ٹرن لینے لگیں مگر “GPS” کی رٹ ہوتی ہے کہ، آگے بڑھو- ساتھ ہی آپ کو کسی مطلوبہ بلڈنگ کے گرد حفاظتی باڑھ نظر آرہی ہوتی ہے، جبکہ یہ فینس آپ کے رہنما GPS کو دکھائی نہیں دیتی، یوں آپ کو منزل پر داخلے کا رستہ ملے یا نہ ملے “رہنما” کی طرف سے اعلان ہو جاتا ہے کہ آپ منزل تک پہنچ چکے – روٹ گائیڈنس ختم شد …… آہ ! یہ کیسی رہبری ہے اور رہنما کا کیسا انتخاب ؟

تزکیہ نفس (سیلف کلیننگ) کا انعام اور رب کا سوال

مانا کہ حالات بے حد صبر آزما ہیں، تو کیا صبر پر جنت کی بشارت نہیں؟ اور عین ممکن ہے کہ آپ ہی کی جنتُ الفردوسُ الاعلی کی بار بار کی دعا کی قبولیت کے نتیجے میں یہ حالات پیدا ہوئے ہوں، تاکہ آپ کے درجات بلند ہو سکیں!

آپ کی اس “door locked” پالیسی کے تحت اصل میں سب سے پہلا دروازہ جو بند ہوتا ہے وہ ہے غیبت کا- آپ جوں ہی غیبت کا در بند کرتے ہیں، آپ کے اندر دوسرے کی عیب جوئی اور خوئی دونوں ہی عادات سے نمٹنے کا مدافعتی سسٹم ازخود کام کرنا شروع کر دیتا ہے – جی ہاں! بالکل اندر ہی اندر اکثر دل خوب جلتا بھی ہے، الفاظ کا لاوا پکتا بھی ہے، لیکن! زبان کے “قوی” بند دروازے سے باہر کوئی طوفان نہیں مچاتا- اور یاد ہے نا ! پاسورڈ کے تین عناصر! مثبت مصروفیت؛ آپ کے پاس تو منفی رویوں پر کڑھنے اور منفی رد عمل کا وقت ہی کہاں بچتا ہے اب! اور نماز “قائم”؛ صبرٌ جمیلٌ؛ تو اس کے نتیجے میں جو زبان اب شکر اور ذکر کی عادی ہو رہی ہو اسے برا بول نہ تو زیب دیتا ہے نہ اس کی عادت ہی رہ جاتی ہے –

تو بس اب اندر ہی اندر اس جلتے کڑھتے، سلگتے دل کی سیلف کلیننگ (تزکیہ نفس) کا کام شروع ہو جاتا ہے، انسان کا دل ایک صاف شفاف برتن کی مانند نکھر کر چمک اٹھتا ہے- غصے ، نفرت، غم ، خوف، حزن، ملال، بغض یا بدلہ لینے والے جراثیم کا خاتمہ از خود شروع ہو جاتا ہے- خود احتسابی کا دفتر وجود پا جاتا ہے- خود اعتمادی کا اجالا پھوٹ پڑتا ہے- خودی کے بلند ہونے کا عمل شروع ہوجاتا ہے، خدا کے خود آپ کی رضا پوچھنے کی امل کا ظہور ہو جاتا ہے-

بس ذرا سی زندگی میں خوبصورت صبر جس کے بارے میں رب العزّت اپنے کلام میں بتا رہا ہے کہ حالات اور لوگوں کے فتنوں سے آزماؤں گا تمہارے صبر کے نتیجے میں جنت کے محل تیار ہوں گے: “اتصبرون”؟ بولو کیا تم صبر کرو گے؟

فرح رضوان۔

اس مضمون کی ساری اقساط پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں

کارآمد پرزہ – تمام اقساط