قسط # 3
حقیقی دشمن کی پہچان اور دلوں میں شک کے بیج
کئ مسنون دعاؤں میں دشمن کے شر سے پناہ مانگنے کی تعلیم دی گئ ہے ۔سمجھنا یہ ہے کہ ہم بہو یا داماد ہیں تو دشمن سسرالی نہیں اور سسرالی ہیں تو دشمن بہو اور داماد اور ان کے میکے والے نہیں بلکہ ہم سب کا دشمن وہ ہے جسے ہمارے رب کریم نے دشمن بتایا ہے یعنی شیطان جو عام حالات میں ہمارے سینے میں شک کے بیج بونے آجاتا ہے لفٹ کروانے پر دل میں گھس بیٹھنے کی کوشش کرتا ہے اور غصہ آجانے پر خون میں گردش کرنے لگتا ہے،جس کا شروع دن سے دعویٰ تھا “انا خیر منه” تو اپنا یہی فلسفہ یہ ہر اس فرد کو بیچنے پہنچ جاتا ہے جسے ضرورت سے زیادہ ہی اعتماد ہو کہ آئے ایم دا بیسٹ سب سے اچھا نہ سہی پر جس پر غصہ آتا ہو چڑ ہونے لگے اس سے تو بہت بہت بہتر ۔
پہلے تو بہو اور داماد گہرا سانس لیں اور گہرائ میں جاکر سوچیں کہ ایک ٹرک ڈرائیور یا رکشہ والے کو آپ کتنا بڑا عالم سمجھتے ہیں ؟ یہ علم تو ہم میں صرف وہیں سے آیا ہے نا کہ ماں کی دعا جنت کی ہوا ،کیا والد کی دعا جنت کی ہوا نہیں ؟ اور نئ زندگی میں ملنے والے نئےوالدین یعنی ساس سسر جو اللہ کے نام کے ساتھ آپ سے رشتے میں جڑتے ہوئے تاحیات محرم بن جاتے ہیں ان کی دعا کی کوئ اہمیت نہیں ہوتی؟تو ان کو حقیر نہ سمجھا کریں ممکن ہے کچھ جگہوں پر وہ غلط ہوں لیکن وہ ہمیشہ غلط آپ ہمیشہ درست نہیں ہوسکتے۔
اولاد کی خوشیاں اور سسرالی خاندان میں حسد کا عنصر
اور جناب ساس سسر صاحبان آپ کو یاد ہے نا جب آپ کے بچے چھوٹے ہوتے تھے تب سے ہر ملنے والے کی جانب سے ایک دعا ساتھ ساتھ چلی آرہی تھی جس سے آپ کی رگوں میں امنگ دوڑنے لگتی تھی کہ اللہ ان کی خوشیاں دکھائے،تو وہ دعا اللہ کے فضل سے پوری ہوئ،آپ کی اولادوں کی شادی ہوگئ یہ بھی کیسا کرم ہے مالک کا کہ دونوں میاں بیوی ایک دوسرے سے خوش ہیں، یہ تو شکر کے سجدے کرنے کا وقت نہیں کہ جو خوشیاں مانگیں مل گئیں ،پھر رب العزت نے مزید کرم فرما کر اولاد کی نعمت عطا فرما دی تو ان کے خوش رہنے سے خوشی کے بجائے یہ جلن ہونے والے واقعات بڑھنے کیوں لگے ہیں ؟
دورِ ولادت: بہو کے ساتھ انصاف اور قوام کی ذمہ داریاں
اور یہ کون سی میڈیکل سائنس کا کرشمہ ہے کہ بیٹی کے گھر ولادت ہو تو وہ تکلیف سے گزرتی ہے ،اسے مناسب آرام،محبت اور اچھی خوراک کی ضرورت ہوتی ہے لیکن بہو کیا اسی مٹی سے نہیں بلکہ فولاد سے بنی ہوتی ہے کہ وہ نہ تو کسی درد سے گزرتی ہے نہ اسے نیند پوری کرنےکی ضرورت ہوتی ہے نہ محبت کی نہ عزت کی؟بہو کی اتنی غیر فطری غیر یقینی سپیڈی ریکوری کیوں چاہتے ہیں ہم ؟ کیا یہ ظلم نہیں ؟ کیا ایسی زیادتیوں کی پکڑ سے دنیا اور آخرت میں بچ جانا انسان کے بس کی بات ہے ؟ حد تو یہ ہے کہ بعض اوقات شوہر نامدار تک اپنی بیگم کے ماں بننے کے دور کو بہت ہی آسان سمجھ لیتے ہیں یا دوسری کسی اور خاتون سے موازنہ کرنے لگتے ہیں جو سراسر غلط روش ہے۔
خواتین کی زندگی میں یہ دور کبھی بھی آسان نہیں رہا ہے اور اب جس قسم کی خوراکیں ہیں وہ تو ویسے بھی پرانے دور جیسی توانائی نہیں پہنچاتی ہیں لہذا ساس سسر اور شوہر بچےکی ولادت کے قریب اور بعد میں کچھ رعایات کچھ احسانات ایک ماں کے ساتھ کر لیں تو یہ نیکی اللہ تعالیٰ کے بارگاہ میں بھی بڑی ہی ہوگی ساتھ ہی اس خاتون کے دل میں سب کے لئے تاحیات جگہ بن جائے گی،اگر آپس میں یہ طے بھی ہو کہ اس دوران خاتون میکے جاکر رہیں گی تو یہ صرف خاتون کے آرام اور مدد کی حد تک ہی رکھیں اخراجات ہسپتال کے ہوں یا اچھی خوراک کے یہ شوہر آگے بڑھ کر خود ادا کرے۔ یہ قوام کا ذمہ ہے کہ اپنی بیوی اور اولاد کی مالی ذمہ داری خود سے پوری کرے ،چپ چاپ کنی کترا کر سارا خرچہ بیگم کے والد اور بھائ پر ڈال کر ظلم کی سیاہی سے اپنی قسمت خراب کرنے کے انتظامات نہ کیا کریں اللہ تعالیٰ کو یہ چالاکیاں اور کنجوسیاں سخت ناپسند ہیں ایسے موقع پر اس کے قہر کونہ للکارا کریں۔
تعلقات کا تدبر اور 80/20 کا سنہری فارمولا
قطرہ قطرہ زندگی جیسے جیسے آگے بڑھتی ہے،ذرہ سی محنت،ذرا سے ایثار ذرا سے درگزر کے باعث انسان کےپرخلوص عمل سے اللہ کے نام کے ساتھ جڑے رشتوں میں محبتیں اور عزتیں پروان چڑھتی ہیں یا پھر ان سب کی عدم موجودگی میں کدورتیں پل رہی ہوتی ہیں۔ تقدیر اپنی جگہ ہوتی ہے کہ مختلف سوچ اور پسند کے لوگوں کو اللہ تعالیٰ جوڑ دیتے ہیں،تدبیر یہ ہے کہ ہم 80/20 کا فارمولا سمجھ لیں ۔نارمل لوگوں میں اسی فیصد خیر اور خوبیاں اور یکساں عادات موجود ہوتی ہیں ،بیس فیصد مختلف بھی ہوتی ہیں اور کچھ نہ کچھ عیب تو ہر انسان میں ہوتا ہے،کہیں اسے درگزر کر دیا جاتا ہے کہیں اس پر نرمی یا فرم انداز میں بات کرلی جاتی ہے۔ کہ دیکھیں جناب یہ 80/20 تک تو ٹھیک تھا لیکن اب خرابی کا ریشو ذرا بڑھنے لگا ہے،مطلب یہ تواصوا بالحق و تواصوا بالصبر کا موقع ہوتا ہے۔
اور یہ ضروری نہیں کہ دو لوگوں کا ٹاکرا ہو تو وہ آپس میں یہ کام کریں بلکہ دو لوگ آپس میں الجھ نہ جائیں اس حکمت کے پیش نظر باقی لوگ ان پر کام کرلیں جیسے بڑی عمر کے والدین میں سے بیگم یا شوہر ایک دوسرے کی توجہ دلا دیا کریں کہ داماد سے یہ رویہ درست نہیں یا بہو کی فلاں بات سے درگزر کر کے ان بچوں کی خوبیوں پر شکر گزار ہوں شکر نعمتوں کو باندھ کر رکھنے والی ڈور ہے۔
بڑھاپا اور رزق کی کشادگی کی مسنون دعائیں
کتنی پیاری مسنون دعا ہے کہ اے اللہ مجھ پر میرے بڑھاپے کے قریب اور میرے عمر کے خاتمے تک اپنا رزق کشادہ رکھنا۔
اور وہ جو آنکھ کھلنے پر سائنس کہتی ہے نا کہ بستر سے فوراً نہ اٹھیں اور دین کہتا ہے بستر پر بیٹھے بیٹھے دعا کرنی ہے وہ قیمتی وقت ہے ،اللھم انی اعوذبک من ضیق الدنیا و ضیق یوم القیامہ ۔ ہم بھی عجیب ہیں نا یوم آزادی یوم مزدور یوم فلاں سب کی تیاری کرتے یوم القیامہ ذہن سے محو ہونے لگتا ہے ۔
کتنی اہم ذہن سازی صبح صبح کر دی جاتی ہے نا کہ دنیا و آخرت میں گھٹن اور تنگی سے پناہ مانگ رہے ہیں دوسروں کی زندگی تنگ کر کے انہیں گھٹن میں مبتلا کرکے کیسے ممکن ہوگا بھلا؟
بزرگی کا وقار: خود انحصاری اور بہوؤں پر بوجھ بننے سے گریز
تو مٹھی کھولیں ،دل کھولیں،اچھی اچھی باتوں کے لئے کتابیں کھولیں لنکس کھولیں ،کچھ ورزش کریں اپنے جوڑ بند کھولیں،جب تک جتنے ہاتھ پیر چلتے ہوں اپنا کچن کھولے رکھیں،بہووں کے آجانے پر سستی کے مارے ان پر اپنا اپنے میاں اور اپنے غیر شادی شدہ بچوں کا سارا بوجھ نہ لاد دیا کریں کہ اب بہو ہی پکائے یہی کھلائے تب ہی ہم اسے عزت سے جینے دیں گے،جب تک جان میں جان ہو اپنا کھانا خود بنائیں اپنی عمر اور صحت کے لحاظ سے اور اوقات کو مد نظر رکھ کر کھائیں، جوانوں کی خوراکیں اور ان کے کھانے کے اوقات مختلف ہوتے ہیں انہیں ان کی زندگی جینے دیں آپ اپنی جئیں صحت بھی مصروفیت بھی اور کوئ کلکل کٹکٹ نہیں کہ وقت پر کھانا نہیں دیا گیا پسند کا نہیں دیا گیا ،یہ معاملات بھی تو عبادات ہی کا حصہ ہیں نا!
فرح رضوان۔
اس مضمون کی اگلی قسط پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں