farahrizwan

قسط # 4

اس حصے میں چند سچے قصے اور پھر اگلی تحریر سے اپنی بات کا سلسلہ واپس جوڑتے ہیں۔

قصہ اول: جوائنٹ فیملی سسٹم اور ساس کا سایۂ تحفظ

1- یہ ایک بہو صاحبہ ہیں جو جوائنٹ فیملی میں رہتی ہیں، ساس کہیں چلی جائیں تو ان کی جان پر بن آتی ہے کیونکہ ساس صاحبہ ڈسپلن کرتی ہیں سب کو تو وہ ٹھیک رہتے ہیں خصوصاً ان کی اکلوتی صاحبزادی جو مزاج کی تیز اور خاصی ضدی واقع ہوئ ہیں ان کے موڈ سوئنگز کو صرف ساس ہی درست رکھ سکتی ہیں ورنہ یہ لڑکی کبھی سیلف پٹی کارڈ پلے کرکے بھتیجے کو بیجا لاڈ کرکے اس کے سونے کھانے سکرین ٹائم کے روٹین خراب کرتی ہے، ٹوک دو تو اپنا موڈ اور گھر کا ماحول خراب کرتی ہے، اپنے وقت میں پرابلم چائلڈ رہی ہے بہرحال ساس کی موجودگی بہو کو احساس تحفظ دیتی ہے۔

قصہ دوم: پرائیویسی کا تقاضا اور مصلحت آمیز تحائف

2- ساس نہایت سلیقہ شعار بیٹے بیٹیوں کی تربیت بھی اسی طرح کی مگر انہوں نے ایک اصول طے کیا تھا کہ شادی کے چھ آٹھ ماہ کسی بہو کے گھر بار یا معاملات میں مداخلت نہیں کرنی چھوٹے چھوٹے گھروں میں رہ لیں لیکن شروع سے سب کا اپنا اپنا گھر ہو، بہوئیں ساری ہی سلیقے کے معاملات میں آزمائش ثابت ہوئیں، خیر یہ ان چھ آٹھ ماہ میں کبھی کبھار ان کے گھروں کی ڈیپ کلینگ کردیا کرتیں مگر بہوئیں بھی کم نہیں تھیں ایک کو ذرا شرمندگی نہ ہوتی وہ بڑا سراہا کرتی، دوسری نہ اچھے میں نہ برے میں اور تیسری بہت برا منایا کرتی کہ میری پرائیویسی خراب کرتی ہیں، جس پر تینوں گھروں میں درجہ بدرجہ ناچاقی ہوتی، بیٹوں کی شادیوں کو دو تین اور چھ سال گزر چکے تھے ساس صاحبہ بڑھتی عمر اور بہوؤں کی لاپرواہیوں کے ہاتھوں تھکنے لگی تھیں تو اب جب کبھی صفائی کرتیں بہوؤں کی طبیعت بھی صاف کردیاکرتیں بیٹوں کو الگ سخت سست کہتیں ایک کھچڑی پک جاتی، ایسے میں نندوں نے ماں کو سمجھایا کہ نئے دور کی لڑکیاں ہیں ان کے اپنے گھر جب آپ نے لینے دیئے ہیں تو پھر بسنے بھی دیں، نہ کریں صفائیاں نہ ان سے اس کا تقاضا کریں کچھ کام دعاؤں سے بھی تو ہوتے ہیں ان کے بچے ہیں، ان کی صحت آئے دن خراب رہتی ہے یہ دور گزر جائے گا تو سب ٹھیک ہو جائے گا لیکن آپ کا بی پی اور شگر کا مسئلہ ہوا تو ٹھیک کیسے ہوگا؟ آپ ان کو فلاں فلاں دن پر تحائف یا سالگرہ منا منا کر گفٹ دینا چھوڑیں اور اس رقم سے ان بہوؤں کو کبھی کبھی میڈ بھیج دیا کریں۔

کرنا رب تعالیٰ کا یہ ہوا کہ بیٹیوں کی بات ماں نے بادل ناخواستہ تسلیم کی بہوؤں کے حوالے گھر کیئے، پہلے تو آپس میں دل صاف ہوئے اعتماد اور احترام بحال ہوا ساتھ ہی ساتھ دعائے اور تربیت رنگ لائ تو اللہ کے فضل سے گھر بھی قرینے کے ہوتے چلے گئے۔

قصہ سوم: خود مختاری کا کڑوا گھونٹ اور بروقت فیصلے

3- داماد بہت اچھا ملا مگر امپورٹیڈ تھا مطلب دبئ والے ماموں کے بیٹے کو یوکے بلا لیا گیا تھا جسے ان کے ساتھ ہی رہنا تھا بیٹی کی جدائ کا غم بھی نہیں تھا رونق بھی خوب تھی مگر مسئلہ یہ تھا کہ دونوں والدین نوکری کے لئے جاتے بیٹی بھی کام کرتی جبکہ داماد کو ابھی کام ملا نہیں تھا اور باقی کی دونوں بڑھتی عمر کی بیٹیاں سکول سے جلد گھر واپس آجاتیں یہ عجیب شیر بکری اور گھاس والی پہیلی بن گئ تھی، سوچا کہ داماد جلد نوکری تلاش کرلے گا مگر سب بیٹھے بٹھائے مل رہا تھا تو وہ خاصی سستی کا شکار دکھائی دیا، بہرحال اس سے پہلے کہ خدشات سے ڈر ڈر کر صحت متاثر ہو ساس سسر نے براہ راست داماد سے بات کی جس پر وہ اور ان کی نئ نویلی بیگم سخت خفا اور برہم ہوئے لیکن ساس سسر ڈٹ گئے کہ جب برے بن ہی گئے تو اب پیچھے نہیں ہٹنا، خود تھوڑی بہت مالی سختی جھیلی اور بیٹی داماد کو اکٹھا ہی گھر سے رخصت کیا، دبئ میں ماموں ممانی کھینچے رہے ادھر بیٹی کا مونہہ سوجھا رہا لیکن دعائیں جاری تھیں ایک اچھا اور بروقت فیصلہ ہوگیا اور اللہ تعالیٰ نے جلد ہی اپنی رحمت سے دلوں کی کدورت دور کر دی ۔

قصہ چہارم: سسر کا بڑاپن اور بہو کو سیکھنے کا وقت

4- سسر نے بیٹے کی شادی سے پہلے ہی ساس کو سمجھایا کہ جو غصہ اپنے بچوں پر کرتی ہو کسی اور کی اولاد پر نہیں کرنا ورنہ بیٹے کا گھر بسنا مشکل ہو جائے گا۔ شادی کے بعد پہلی بار ساس نے بہو کی شکایت کی تو سسر نے غیبت کرنے سے روک دیا کہ اپنا دل تو جلاتی ہی ہو میرا بھی برا کرو گی گھر کے کام ہوتے ہیں ہو جائیں گے نہیں ہوں گے تو قیامت نہیں آ جائے گی۔ آنے والی بچی نہ زبان کی بری ہے نہ عادات کی بری بس تجربہ نہیں ہے اسے تم ہی بیٹے کی خاطر بڑاپن دکھا کر بہو کو سیکھنے کا وقت تو دو۔ ساس بھی نا امید نہ تھیں لہذا وقت گزرا تو اللہ کی رحمت سے واقعی خیر کے گل بوٹے بھی نمایاں ہوتے چلے گئے۔

سسرالی رشتوں کے لیے ورکشاپس کی ضرورت

الحمدللہ ہمارے معاشرے میں خیر اب بھی غالب ہے ضرورت اسے مزید پھیلانے کی ہے، ذرا صبر اور حوصلے کی ہے، قناعت اور توکل علی اللہ کی ہے۔ جہاں ہم دلہن یا دولہا کے لئے ورکشاپس کا انعقاد کرتے ہیں سسرالی رشتوں کے لئے بھی کام ہونا چاہیے تاکہ ہم سبھی کو زندگی کے ہر نئے دور میں نئے رشتوں اور ان کے تقاضوں کو سمجھ کر نبھانا آسان ہو جائے ہم سیکھ سکیں کہ ظلم نہ تو کرنا ہے نہ ہی سہنا ہے، ان شاءاللہ اسی طرح تو ہم سب اپنی اپنی جگہ معاشرے کے لئے کارآمد پرزہ ثابت ہوسکیں گے ۔

کیا آپ بتائیں گے کہ آپ کو سب سے متاثر کن کردار کس کا لگا؟

فرح رضوان۔

اس مضمون کی اگلی قسط پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں

پانچویں قسط

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *