قسط # 11
اچھی ساس کے سلسلے کو ذرا سا بریک دے کر ہم اس حصے میں نارسیسسٹ پرسنالٹی پر کچھ بات کرتے ہیں ۔
میڈیا کا ایجنڈا، شیاطین کے جال اور تفریح کا فتنہ
حالات ایسے کر دیئے ہیں کہ عام انسان کہتا ہے کہ اگر ڈرامے اور شوز دیکھنا بھی ترک کردیں تو تفریح کیا کریں ؟ جبکہ میڈیا کے اپنے ہی ایجنڈے اور شیطان کے اپنے جال یہاں موجود ہیں جس میں پھنس جانا تو بہت آسان ہوا کرتا ہے لیکن ان سے نکلنا اکثر دشوار ہو جاتا ہے ۔ ۔۔۔۔ جو باتیں کل تک ڈراموں میں عام ناظر محسوس نہیں کرتا تھا اب اسے ذہن نشین کروانے کا ذمہ بھی میڈیا نے اٹھا لیا ہے ۔ آج کل تو سب سے زیادہ بات ٹاکسک لوگوں اور نارسیسسٹک پرسینالٹی پر ہو رہی ہے، سب کی اپنی سوچ اپنی پڑھائی اپنا غصہ اور اپنی اپنی دانش سے بھری دو دو منٹ کی ریلز میں ہی کتنا کچھ بتایا جارہا ہے تو گھنٹوں پر محیط مختلف ٹاک شوز میں کتنا پرچار نہیں کررہے ہوں گے!
یقین محکم سے یہ بآور کروایا جاتا ہے کہ:
- “نارسیسسٹ بندہ کبھی ٹھیک نہیں ہوسکتا”
- “نارسیسسٹ ہمیشہ اپنے سے کم طاقتور کا خون نچوڑتا ہے”
- “نارسیسسٹ لوگ ہوتے ہیں جو کم عمر بہویں لاتے ہیں تاکہ ان کے ماحول میں ڈھل جائیں”
“وہ سچی محبت تھوڑا ہی کرتا ہے بس لوو بومبنگ سے مٹھی میں رکھتا ہے اور اف اس کے میاں کی سخت مزاجی کہ بیوی کے دوست سے ہاتھ ملانے پر تلملا اٹھا ۔ ہائے اس کا کزن ابھی بھی شادی کی آفر کر رہا ہے کتنی کیوٹ بات ہے یہ”۔ اور اس قسم کے ڈراموں میں آسودگی تلاش کرتے لوگ دوسروں کو اس طرح تلقین فرماتے ہیں کہ گویا انہوں نے بروقت ڈرامہ نہ دیکھا تو گناہ کی بات ہوگی۔
اصطلاحات کا ورد اور رشتوں میں شک کا وائرس
مانا کہ برے لوگوں اور رویوں کے بارے میں جاننا بہتر رہتا ہے لیکن اس کا اتنا ورد کیا جائے کہ گھروں میں دفتروں میں دوستوں میں ہر دوسرے شخص کی ذرا سی خود غرضی کرنے پر یا تربیت کے لئے کچھ کہنے پر گمان ہونے لگے کہ یہ تو پکا نارسیسسٹ ہے ۔ اور جوں ہی شیطان یہ وسوسہ ڈالے تو ایک ایک کرکے اس کی خصوصیات ڈراپ ڈاؤن ہو جائیں کہ لاعلاج ہے مجھے کمزور جان کر ایسا کر رہا ہے ۔۔۔ اس سے تو تگڑا ہوکر بات کرنی ہے ورنہ دبا لے گا۔
نارسیسسٹ یا منافق؟ اسلامی فہم اور اوصاف کی پہچان
اب اس لا علاج کی رٹ کو ایک طرف رکھ کر نارسیسسٹ کا اردو ترجمہ نرگسیت کرنے کے بجائے اس کے اوصاف سے اسے سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں ۔۔۔۔ چیختا ہے ، جھوٹ بولتا ہے ، وعدہ خلافی کرتا ہے ، گالم گلوچ پر آمادہ رہتا ہے ۔۔۔۔ یہ تو منافق کی پہچان ہے نا !
کیا اس کی اصلاح ممکن ہے ؟
یہ آپ کے اعصاب ، آپ کے یقین اور آپ کے صبر پر منحصر ہے کہ آیا آپ کا رشتہ اس انسان سے کیسا ہے ؟ اس کے بغیر بھی جینا ممکن ہی نہیں آسان بھی ہوسکتا ہے لیکن اس انسان میں ایسی کون سی خوبیاں ہیں کہ اتنی خامیوں کے باوجود اس کی اصلاح پر محنت کی جائے، یہ آپ سے کتنے اہم یا غیر اہم رشتے میں جڑا ہوا ہے ۔
بگاڑ کے اسباب: ذہنی دباؤ، حسد اور روحانی گمراہی
پھر سوال ہے کہ کیا یہ شروع سے ایسا تھا یا اب ہوگیا ہے ؟ اب ہوا ہے تو وجہ ذہنی دباؤ ہے؟ ذہنی مرض ہے؟ یا کوئی روحانی مرض لاحق ہوا ہے ؟ روحانی مرض میں صرف نظر اور حسد ہی نہیں آتے انسان کی گمراہ ہوجانا بھی شامل ہے۔
اگر اونچ نیچ نفع نقصان جان کر بھی ایسے انسان کو اپنانے کا فیصلہ کرتے ہیں تو پھر اس بات سے قطع نظر کہ دنیا کی دانش تو مصر ہے کہ نارسیسسٹ بندہ ناقابل علاج ہوتا ہے ، آپ خود دیکھیں کہ اگر یہ انسان آپ کے لئے پھر بھی قیمتی ہے تو روحانی، نفسیاتی جسمانی کس طریقے سے اس کا علاج ممکن ہے؟ اور پھر اپنے رب سے دعا اور اس کی رحمت پر کامل یقین کے ساتھ اچھے معالجین کے مشوروں سے اس کی اصلاح پر کام کیا جاسکتا ہے۔
کئی سال پہلے بہت سے امراض لاعلاج قرار دیئے جاتے رہے ہیں لیکن وقت کے ساتھ ساتھ ان کے کامیاب علاج سے ہم سبھی واقف ہوتے رہے ہیں ، شفا اور زندگی تو منجانب اللہ ہے اور ہدایت جیسی نعمت بھی ہمارے رب کی عظیم نعمت ۔
فرح رضوان۔
اس مضمون کی اگلی قسط پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں