قسط # 10
ہم مسلم ساس کے چند اجزائے ترکیبی دیکھ رہے تھے ۔
اقتدار کی نہیں، اقدار اور کردار کی منتقلی (H2)
6# مانا کہ ہمارے ہاں نمبر پانچ والی بات نہ ہی قابل قبول ہے اور نہ ہی آئیڈیل صورتحال ،تو پھر کیا کیا جاۓ؟
دیکھیں! بات اب پہلی جیسی تو رہ نہیں گئی، کل تک آپ ایک سلطنت کی تنہا مالک تھیں، اب اگر بہوئیں ساتھ ہیں تو بات مالکن ملکہ اور ملکیت کے بجائے یوں بھی تو دیکھی جاسکتی ہے نا کہ کل تک آپ کے ناتواں کاندھوں پر گھر بھر کی ذمہ داری تھی لیکن ایک اچھے پراجیکٹ مینیجر کی طرح آپ کو ورک ڈیڈیکیشن کا طریقہ آتا ہے ،جب ہمیں بیٹی بیاہ کر اس کے شوہر کو سونپنا آتا ہے تو بیٹا بیاہ کر اس کی بیوی کو سونپنے میں এত دقتوں کا سامنا کیوں رہتا ہے ؟
اچھا ایک بات تو خود کو ٹٹول کر بتائیں، کیا آپ میں حب جاہ ہے؟ عہدے، شہرت، لیڈر شپ کی ہوس؟ حرص ؟ نہیں ؟ کسی کے احساس کر کے شکریہ ادا کرنے ہی کی تمنا؟ واقعی!!! سچی!!! شکر ہے ! یہ تو بہت ہی اچھی بات ہے ما شا اللہ -الحمد للہ .
چلیں تو، اب دوبارہ دیکھیں! سب سے پہلے اس بات کو دل سے تسلیم کریں کہ اصل میں یہ بہو کو اپنے اقتدار کی نہیں، بلکہ اقدار اور کردار کی منتقلی ہے- جی !” آپ کے کردار کی” -تو کیا وہ واقعی اتنا دلکش ہے؟ کہ کوئی بخوشی اسے لینے پر آمادہ ہو- یا اگلی نسلوں تک منتقل کیا جاۓ؟
موسم بدلنا لازم بھی ہے، ضروری بھی اور رت بدلنے پر زرد ہو کر شاخ سے ٹوٹ جانے والے پتے بظاہر نئے سرسبز و شاداب پتوں کے لیے جگہ چھوڑ کر گرتے دکھائی دیتے ہوں، لیکن اصل میں وہ خود کو کھاد میں بدل کر درخت کی زرخیزی میں اضافہ ہی کر رہے ہوتے ہیں – آپ نے زندگی میں جو بھی تجربات سے سیکھا یہ اس سیکھ سے دوسرے ناتجربہ کار کی زندگی سہل بنانے کا وقت ہے، لیکن یہاں بھی حکمت کے ساتھ کام لیتے ہوئے سکھائیں، کہ اگلے کو نہ تو احساس کمتری ہو نہ وہ اسے ڈکٹیشن سمجھے ،ساتھ ہی یہ سبق کبھی نہ بھولیں کہ کسی پر کبھی احسان نہیں جتانا، خواہ وہ اپنی سگی اولاد ہی کیوں نہ ہو….. کیو نکہ یہ اللہ کی چادر کو کھینچنے کے مصداق ہے.
انڈین ڈراموں کا گچھا، کام چوری اور تالے کی “ماسٹر کی” (H2)
7# کیا آپ کو کبھی انڈین ڈرامے کی ساس بہو دیکھنے کا اتفاق ہوا ہے؟ جو من بھر کی ساڑھی پر دو من کی چابیوں کا گچھا لٹکاۓ پھرتی ہیں، جبکہ ہمارے ہاں کبھی ایسا نہیں ہوتا! کیوں ؟ اس لیے کہ ہم سب جانتے ہیں کہ چوری کی سزا ہاتھ کاٹ دینا ہے، تو اپنے ہی گھر میں چوری کا کیا سوال؟ ہمم …یہ تو ٹھیک ہے لیکن کام چوری کی سزا؟
آپ کو نہیں لگتا کہ ہم میں سے اکثر خواتین کام کے معاملے میں بڑی جلدی سے بوڑھی ہو جاتی ہیں ؟ یہ کام مما نہیں کر سکتیں، امی بیچاری سے تو اب نہیں ہوتا – موم نے بہت کر لیا ۔ یوں بظاہر ہاتھ سلامت ہوں تب بھی حالات زندگانی کچھ ایسے ہوجاتے ہیں، مانو، گویا ہاتھ ہی کٹ گۓ ہوں اور ہم اپنا احتساب کرنے کے بجاۓ دوسروں پر بری نظر لگانے اور حسد اتارنے کا بہتان چسپاں کر ڈالتے ہیں –
کبھی بھی یہ وسوسہ پاس پھٹکنے نہ دیں کہ کوئی آپ سے فائدہ اٹھا رہا ہے، بلکہ اپنے کارآمد ہاتھ، پاؤں، حواس وغیرہ پر ہر دم رب کا شکر کریں- ان شا اللہ یہ عمل آپ کو احساس کمتری ، تھکن، جھلاہٹ و مایوسی سے بچنے میں کارگر ثابت ہوگا-
ویسے اگر ہر تالے کی چابی اپنے ہاتھ میں رکھنے کی تمنا ہو تو صرف ایک ہی گر، یعنی بد گمانی سے بچنا اور دوسرے کو ستر گمان دینا ہی ہمیں آجاۓ تو سمجھ لیں کہ ماسٹر کی ہمارے ہی پاس ہے۔ لیکن جس طرح ہر چابی کے مخصوص دانتے ہوتے ہیں اس کے بھی اسی طرح ہیں- دین کی سمجھ – عمل – صدقہ – دعا – ذکر – امید اور خدا خوفی کے ساتھ ہی کھانے- پینے- سونے- جاگنے اور بولنے سننے کا صحتمند طرز زندگی مع ہلکی پھلکی ورزش کے. یہ سب مل کر ہی پاسورڈ مکمل کرتے ہیں، سوچیں ذرا کہ ایک ہندسہ بھی کم ہوا تو اکاونٹ کیسے کھل پائے گا بھلا؟
اعمال نامہ کا “فعلِ جاریہ” اور قبر کا خوبرو مسافر (H2)
اس پہلے حصے کے اختتام تک لگتا تو ایسے ہی ہے جیسے کہ بس ساری کمی کوتاہی تو ہم ہی میں ہے- آخر ہم ہی ایسا کیوں کریں؟- بات یہ ہے کہ کسی کے بھی عمل پر ہمارا کوئی بھی رد عمل ہی، اصل میں ہمارا وہ عمل ہے جو مسلسل سالہاسال سے لکھا جارہا ہے – رہا ہے، رہی ہے، رہے ہیں ،
Present Continuous Tense یعنی فعل جاریہ ہے، جسے Present Progressive Tense بھی کہتے ہیں، یعنی “ترقیاتی” کام جاری ہے، اگر ہم تھک کر رک جاتے ہیں یا غم و غصے میں برابری سے ہی برا رد عمل کرتے ہیں، یا سزا کے طور پر صرف اپنی طرف کا اچھا عمل روک دیتے ہیں تو پھر لکھا کیا جارہا ہوگا اعمال نامے میں ؟
یاد ہے نا کہ جس کے عمل برے ہوں گے، اس کے لیے قبر کی تنہائ میں ایک انتہائی بد شکل آدمی بری خبریں لے کر آئے گا اور وہ شخص اصل میں اس کا برا عمل ہوگا جبکہ، اچھے اعمال کرنے والے کی قبر میں انتہائی خوبصورت انسان آکر اسے خوشخبری سناۓ گا اور یہ خوبرو شخص اس بندے کے نیک اعمال ہوں گے –
ہم اکثر قران میں پڑھتے ہیں “تجری من تحتھا الانھار”۔ جاری رہنے والی نہریں، کیا یہ مفسدین کی ملکیت ہوں گی؟ نہیں نا! یہ تو اللہ کی رحمت سے صالحین کی ملک ہوں گی، ہمیشہ ہمیشہ جاری رہنے والی نعمتیں- جاری رہنے والا امن و امان جاری رہنے والے حسین ترین نظارے اور وہ بھی کبھی نہ ختم ہونے والی اپنی ذاتی عظیم ریاست میں- بھلا کن کے لیے ؟ جنہوں نے تاحیات خوف و رجا کا دامن تھامے رکھا، اصلاح کا عمل جاری رکھا- اخلاص کے ساتھ نیک عمل، جاری رکھا- اچھا اخلاق، جاری رکھا- صبرجمیل، جاری رکھا –
فرح رضوان۔
اس مضمون کی اگلی قسط پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں